مقام فقہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
مقام فقہ
علامہ خالد محمود مدظلہ العالی
پی-ایچ-ڈی لندن
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک فقہ کا مقام:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل روایت کرنے والے تو بہت تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تھی کہ میری ایک بات بھی جسے پہنچی ہو اسے لازم ہے کہ اسے آگے روایت کردے تاکہ دین کی کوئی بات چھپی نہ رہے۔ہوسکتا ہے جن کے پاس وہ یہ حدیث پہنچائے وہ اس کی نسبت اسے زیادہ سمجھنے والاہو۔
اہل روایت تو سبھی ہوسکتے ہیں مگر اہل فقہ وہی خوش قسمت ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی خیر کا ارادہ کرلے۔

1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" مَنْ يُرِدِ الله بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ "
(جامع الترمذی ج2ص89وقال حسن صحیح ،سنن الدارمی ج1ص85،رواہ مسلم عن معاویۃ ص144من المجلدالاول)
ترجمہ: اللہ تعالی جس بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالے اسے دین میں فقیہ بنادیتا ہے۔

2.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا "
(صحیح بخاری ج1ص473،496،صحیح مسلم ج2ص331)
ترجمہ: لوگ کانیں ہیں ،جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے اسلام میں بھی وہی اچھے ہوں گے جب وہ فقہ کو جاننے لگیں۔

3.

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا :
" إِن رجالا يأتونَكُم من أقطارِ الأرض يتفقَّهونَ في الدِّين ، فَإِذا أَتَوْكُم فاسْتَوْصُوا بهم خيرا "
(جامع الترمذی ج2ص89،سنن ابن ماجہ ص22)
ترجمہ: بے شک اطراف عالم سے لوگ تمہارے پاس آئیں گے تاکہ وہ دین میں تفقہ حاصل کریں۔جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ا نہیں خیرکی نصیحت کرنا۔
4. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ "
(رواہ الترمذی ج2ص93،سنن ابن ماجہ ص22)
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اسے اس طرح روایت کرتے ہیں:
" مَا عُبِدَ اللهُ عزوجل بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دِينٍ، وَلَفَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ عِمادٌ , وَعِمادُ الدِّينِ الْفِقْهُ "
(عوارف المعارف ج1ص225)
ترجمہ: اللہ کی کوئی عبادت فقہ فی الدین سے بڑھ کر نہیں ہے اور ایک فقیہ شیطان پر ایک ہزار عابدوں (عبادت گزاروں)سے بھی زیادہ گراں ہے۔ہر چیز کا ایک ستون ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے۔
5. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
" رُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. "
(رواہ الشافعی واحمد والدارمی ج1ص86و الترمذی ج2ص90)
ترجمہ: کئی ایسے ہیں جو حامل فقہ (راوی حدیث) تو ہیں لیکن وہ فقیہ نہیں اور کئی حاملین فقہ روایت اس کی طرف لے جاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہو۔
کیا یہ انہی حضرات کا حال نہیں جو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے لوگ تھے ۔یہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔جن میں سے بعض کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے راوی حدیث ٹھہرایا اور بعض دوسروں کو فقیہ بتایا۔ہمیں مولانا اسماعیل صاحب (گوجرانوالہ) پر افسوس ہے جوجوش مخالفت میں یہ بات کہہ گئے۔
''صحابہ رضی اللہ عنہم تمام جس طرح عدول تھے، اسی طرح وہ سب فقہاء بھی تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں فقیہ اور غیرفقیہ کی تفریق شرمناک ہے۔''
(تحریک آزادئ فکر ص135)
6. حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتےہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد میں دو حلقے دیکھے ۔ایک میں لوگ دعائیں مانگ رہے تھے ،متوجہ الی اللہ ہورہے تھے اوردوسرے حلقے کے لوگ (يَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ)فقہ میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے حلقے کے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ پہلوں سے افضل ہیں:
" أَمَّا هَؤُلاءِ فيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ فهَؤُلاءِ أَفْضَلُ"
(سنن الدارمی ج1ص99،مسند ابوداودالطیالسی ص36)
ترجمہ: یہ لوگ فقہ کا علم حاصل کررہے ہیں ۔پھریہ آگے جاہلوں کو تعلیم دیتے ہیں سو یہ ان سے افضل ہیں۔