مسائل اور دلائل

صفت نور وبشر

User Rating: 3 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar InactiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صفت نور وبشر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
چند تمہیدی باتیں :
[۱]: بحث نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے وجود مسعود پر ہوگی نہ کہ آپ کی روح مبارکہ پر اس لیے وہ دلائل پڑھے جائیں جو اس وجود مبارکہ سے متعلق ہوں۔
[۲]:
اس مسٔلہ پر بریلوی حضرات چونکہ بشر کہنے اور ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے اس پر دلائل قطعیہ درکار ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے:
1: مولوی عبدالرشید رضوی لکھتے ہیں: اب جو نبی کو بشر کہے وہ نہ تو خدا ہے اور نہ ہی نبی۔ لہذا وہ کفار میں ہی داخل ہوا۔
(رشدالایمان ص45)
2: مولوی نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں: قرآن پاک میں جابجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا۔
(خزائن العرفان ص5)
3: مفتی احمد یار خان نعیمی نے بھی مثل عبد الرشید رضوی لکھا ہے دیکھیئے۔
Read more ...

صفت مختار کل خاصۂ خداوندی

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صفت مختار کل خاصۂ خداوندی
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اس روایت پر غور کیجیے کہ حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو منافقوں اور یہودیوں نے باتیں بنائیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے سنیے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:
بِئْسَ الْمَيِّتُ أَبُو أُمَامَةَ، لَيَهُودُ وَمُنَافِقِي الْعَرَبِ يَقُولُونَ: لَوْ كَانَ نَبِيًّا لَمْ يَمُتْ صَاحِبُهُ، وَلَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي وَلَا لِصَاحِبِي مِنْ اللَّهِ شَيْئًا.
(سیرت ابن ھشام: ج1 ص445 مکتبہ رحمانیہ لاہور. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ قائم کرنا)
ترجمہ:ابو امامہ کا فوت ہونا یہودیوں کے لیے اور منافقین عرب کے لیے برا ہو، وہ کہتے ہیں کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نبی ہوتے تو ان کا ساتھی نہ مرتا حالانکہ میں اللہ کی مشیت کے مقابلے میں اپنے لیے اور اپنے ساتھی کے لیے کسی شے کا مالک نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے
Read more ...

صفت عالم الغیب خاصۂ خداوندی

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (اجمالی کلام)
صفت عالم الغیب خاصۂ خداوندی
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین امابعد!
مبادیات علم غیب:
[۱]: سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین رہے کہ فریقِ مخالف اس عقیدہ اہل السنت کو گستاخی اور بے ادبی قرار دیتا ہے یعنی جو آدمی بھی صفتِ عالم الغیب کو خاصہ باری تعالیٰ سمجھے اور غیر خدا کے لئے اس کے اثبات سے روکے تویہ لوگ اسے نبی کا گستاخ اور نبی کے علم کا دشمن سمجھتے ہیں حالانکہ جیسے معبود ہونا خاصہ باری ہے اور غیر خدا سے اس کی نفی ان کی توہین نہیں، رب العالمین ہونا خدا کی صفت خاصہ ہے اورغیرخدا سے اس کا انکار اس کی توہین نہیں۔ اسی طرح صفتِ عالم الغیب کو خاصہ باری تعالیٰ سمجھنا اور غیر سے اس کی نفی کرنا توہین نہیں بلکہ ضروری اور لا زمی عقیدہ ہے۔ چنانچہ حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
والانبیاء علیہم السلام فضل اللہ بعضہم علی بعض فالفاضل لا محالۃ لہ کمال یختص بہ لیس فی المفضول و لیس المفضول بناقص ثم لیعلم انہ یجب ان ینفیٰ عنہم صفات الواجب جل مجدہ من العلم بالغیب و القدرۃ علی خلق العالم الی غیر ذلک و لیس ذلک بنقص.
(تفہیماتِ الہیہ: ج1 ص24 بحوالہ ازالۃ الریب: ص97)
Read more ...

صفت حاضر و ناظر خاصۂ خداوندی

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صفت حاضر و ناظر خاصۂ خداوندی
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
پہلے چند شرائط:
1: چونکہ بریلوی اس عقیدے کے منکر کو کافر کہتے ہیں ، اس لیے اس عقیدے پر بریلوی حضرات دلائل قطعیہ ہی پیش کر سکتے ہیں۔
2: احناف کے مسلمہ بزرگوں کی عقائد پر کتب موجود ہیں، بریلوی مناظر اپنا یہ عقیدہ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہیں ، ان سے ثابت کریں۔
3: بریلوی حضرات منکرین کو جو ہر جگہ نہیں مانتے کافر لکھ کر دے گا۔
بریلویوں کے ہاں منکرین کافر ہیں:
1: اہل ِ بدعت کی معتبر کتاب میں ہے:
Read more ...

سنت وبدعت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سنت و بدعت
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سنت و بدعت پر گفتگو کے لیے چند رہنما اصول:
اصول نمبر1:
مجدد الف ثانی فرماتےہیں: دنیا بدعات کے سمندر میں غوطہ لگا چکی ہے اور محدثات کی تاریکیوں میں مطمئن ہے رفع بدعت اور تکلم با حیا سنت کا دعوی کون کرسکتا ہے اس زمانہ کے اکثر علماء تو بدعات کے حامی اور سنت کے مٹانے والے ہیں بدعات کے شیوع اور کثرت کو تعامل قرار دیتے ہیں اور اس کے جوازبلکہ استحسان کا فتوی صادر کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بدعت پھیل جائے اور گمراہی عام ہوجائے تو تعامل بن جاتا ہے یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کسی چیز کا ایسا تعامل اس کے حسن ہونے کی دلیل نہیں جز ایں نیست کہ وہ تعامل بہتر ہے جو صدر اول سے معمول بہا ہو یا اس پر تمام لوگوں کا اجماع ثابت ہو۔
(فتاویٰ رضویہ: ج28ص235)
اب معلوم ہوگیا کہ بریلوی حضرات جو مختلف بدعات کے ثبوت میں اپنے علماء کا عمل پیش کردیتے ہیں وہ بقول فاضل بریلوی حجت نہیں۔
Read more ...
Page 2 of 3