میاں بیوی کے جھگڑے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
میاں بیوی کے جھگڑے
حضرت مولاناپیر ذوالفقار نقشبندی
میاں بیوی کا تعلق گھر کی بنیاد ہے:۔
ہمارے گھروں سے، ماحول اور معاشرے سے یہ لڑائی جھگڑے کیسے ختم ہوں، اس پر کئی دنوں سے بات چل رہی ہے۔ ان لڑائی جھگڑوں میں ایک بڑا رول میاں بیوی کی لڑائی جھگڑوں کا ہوتاہے میاں بیوی دنوں مل کر ایک گھر بناتے ہیں، اگر ان کے آپس کے درمیان بھی لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں تو گویا یہ گھر کے بے آباد ہونے کی نشانی ہوتی ہے میاں بیوی کا تعلق کوئی کچا دھاگہ نہیں ہے ایک گہرا رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
واخذن منکم میثاقا غلیظا
اور انہوں نے تم سے پکاعہد لیاہے۔
اس لیے قرآن مجید نے بیوی کو ساتھی کہاہے یہ زندگی بھر کا ساتھ ہوتا ہے میاں اور بیوی دونوں کو سمجھداری سے کام لینا چاہیے اورمحبت اور پیار کی زندگی گزار کر شیطان کو اس میں دخل اندازی کا موقع ہی نہیں دینا چاہیے۔ اینٹیں جڑتی ہیں تومکان بن جاتے ہیں، دل جڑتے ہیں تو گھر آباد ہوجاتے ہیں۔ یہ ذمہ داری خاوند کی بھی ہوتی ہے اور بیوی کی بھی ہوتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے کام لیں۔
یہ اصول یاد رکھیں جہاں محبت موٹی ہوتی ہے وہاں عیب پتلے ہوتے ہیں اور جہاں محبت پتلی ہوتی ہے وہاں عیب موٹے ہوتے ہیں اس لیے شریعت نے نکاح کے بعد محبت کو اجرو ثواب کا ذریعہ بتایاہے۔ چنانچہ میاں بیوی آپس میں جتنی محبت کریں گے جتنا پیارکریں گے اتناہی اللہ رب العزت ان سے راضی ہوں گے، ایک حدیث مبارکہ میں آیاہے کہ
’’جب بیوی اپنے خاوند کو دیکھ کر مسکراتی ہے اور خاوند اپنی بیوی کو دیکھ کر مسکراتاہے تو اللہ رب العزت ان د دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔
شادی کامقصد:۔
ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون۔
(روم:21]
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم میں سے تمہارے لیے جوڑا بنایا، تاکہ تم ان سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان مودت و رحمت رکھ دی، بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے۔
تومعلوم ہواکہ شادی کامقصد یہ ہے کہ سکون حاصل ہو اور جہاں آپ دیکھیں کہ میاں بیوی کی زندگی میں سکون نہیں ہر وقت کا جھگڑا اور چخ چخ ہے ہر وقت جل کٹی باتیں ایک دوسرے کو کرتے رہتے ہیں بحث مباحثہ میں الجھے رہتے ہیں سمجھ لیں کہ کہیں نہ کہیں دال میں کالا ہے بیوی کی طرف سے کوتاہی ہے یا میاں کی طرف سے کوتاہی ہے اور عام طورپر ہمارا تجربہ یہی ہے کہ دونوں طرف سے کوتاہی ہوتی ہے۔
آج کا موضوع:۔
اس سلسلے میں آج ہم بیوی کی سائیڈ کاتذکرہ کریں گے کہ کون سی غلطیاں اور کوتاہیاں وہ کرتی ہے جس کی وجہ سے گھر برباد ہوسکتی ہے ان شاء اللہ کل خاوند کے بارے میں تذکرہ کریں گے۔
ایک اصولی بات یادرکھیں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں شادی کامقصد بتایا لتسکنوا الیھا تاکہ تم اپنی بیوی سے سکون پائو۔جو بھی اپنے خاوند کے لیے سکون کاسبب بنے گی وہ اپنے گھر میں ہنسی خوشی زندگی گزارے گی اس لیے کہ گھر بسانا عورت کے اختیار میں ہوتا ہے۔ ہمارے بڑے کہا کرتے تھے کہ مرداگر کسّی لے کر گھر کو گراناچاہے تو وہ نہیں گراسکتاعورت سوئی لے کر گھر کو گرانے لگے تو مرد سے پہلے گرالیاکرتی ہے۔ اس لیے عورت کوگھر والی کہا جاتاہے گھر کابسانا عورت کے اوپر منحصرہے۔
خاوند سے محبت کارشتہ مضبوط کریں !
یادرکھیے خوبصورت تعلیم یافتہ اور مالدار بیوی کوبھی خاوند کے دل کی ملکہ بننے کے لیے سمجھ داری سے کام کرناپڑتاہے لہذا زندگی کے اس سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کا رشتہ مضبوط کریں !بیوی کو چاہیے کہ وہ خاوند کویقین دہانی کروائے۔ صرف محبت کا اظہار ضروری نہیں، اس کو محسوس بھی کروائیں کہ واقعی بیوی مجھ سے محبت کرتی ہے۔ خاوند کے سامنے سرد مہری دکھانا جھگڑے کی بنیاد ہوتاہے۔ شیطان بھی کتنا مکارہے کہ جب بیوی خاوند کے پاس ہوتی ہے تو اس پر عجیب شرم و حیا طاری کردیتا ہے اور جب محفل میں بیٹھی ہوتا ہے تو پھر ان کے سامنے کھل کھلا کر ہنس رہی ہوتی ہے۔ تو یہ ذہن میں رکھیں کہ شریعت نے جہاں محبت کے اظہار کرنے کے لیے کہاوہاں محبت کا اظہار کرنا بھی ثواب ہوتاہے۔
کئی جگہوں پر ہم نے جھگڑوں کی بنیاد ہی یہ دیکھی۔ خاوند پیار بھی کرتاہے اور محبت کا اظہار بھی کرتاہے او ربیوی اپنے اندر دل دل میں خوش بھی ہے لیکن اظہار ایسے کرتی ہے کہ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ اظہار ایسے کرتی ہے کہ جیسے مجھے اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ یہ اتنا بڑا بلنڈ رہے کہ اس سے بڑا بلنڈر عورت اپنی زندگی میں نہیں کرسکتی، محبت کا جواب ہمیشہ محبت سے دینا چاہیے۔ جب خاوند چاہتاہے کہ بیوی محبت کا اظہار کرے تو بیوی کے لیے تو یہ سنہری موقع ہے۔ ایسی بات کہے، الفاظ سے کہے کہ خاوند کا دل باغ باغ ہوجائے۔
آپ ذرا سوچیے!کہ ام المومنین سیدہ عائشہ rنبی سے اپنی محبت کا برملا اظہار فرماتی تھیں چنانچہ بات چیت کے دوران ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عائشہ آپ مجھے مکھن اور کھجور کو ملا کر کھانے سے بھی زیادہ مرغوب ہو۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مسکرائیں اور فوراً جواب میں کہا:۔
اے اللہ کے پیارے حبیب آپ مجھے مکھن اور شہد کو ملا کر کھانے سے بھی زیادہ مرغوب ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا۔ عائشہ تیرا جواب بہت بہتر ہے۔ اب دیکھئے خاوند نے جو بات کہی بیوی نے ایک قدم آگے بڑھ کر بات کی۔ خاوند سے محبت کا اظہار نہیں کریں گی تو کس کے ساتھ کریں گی؟
انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی سے محبت کرتا ہے تو محبت اظہار چاہتی ہے۔ یاد رکھیے عشق اور مشک چھپے نہیں رہ سکتے ہمیشہ اظہار مانگتے ہیں جہاں بھی ہوں گے یہ اپنے آپ کوظاہر کئے بغیر نہیں رہیں گے اسی طرح بیوی جب خاوند سے محبت کرتی ہے تو یہ سوچنا کہ اگر میں محبت کا اظہار کردوں گی تو خاوند کی نظرمیں گر جائوں گی یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ اپنے قول سے اور فعل سے محبت کا اظہار کررہا ہواوردوسرے بندے کی نظر میں اس کی قدر کم ہورہی ہو؟ ہاں جب خاوند چاہتاہے کہ بیوی محبت کا اظہار کرے اور بیوی ایسے بن کر رہے کہ جیسے وہ تو بالکل ٹھنڈے برف والے دل کی مانند ہے۔ یہ عورت اپنا گھر برباد کرنے کی خود کوشش کررہی ہے۔
افسوس ناک واقعہ:۔
چنانچہ مشہور واقعہ ہے ایک غریب کے گھر کی لڑکی تھی ایک نیک امیر گھرانے کے بچے نے اس کی طرف شادی کی آفر بھیجی، شادی ہوگئی۔ماں باپ بھی خوش تھے کہ بچی کی شادی اچھی جگہ ہوگئی ہے اس کے بھائیوں کے لیے بھی کوئی روزگار کی صورت نکل آئے گی اور بچی خود بھی خوش رہے گی۔ جب یہ گھر پہنچی تو خاوند نے اس کے ساتھ بہت زیادہ محبت کا اظہار کیا۔ یہ اس محبت کو دیکھ کر نخرے میں آگئی۔خاوند جتنا زیادہ محبت کا اظہار کرتایہ اتنا اس کی طرف سے سرد مہری کا ثبوت دیتی۔ خاوند بہت زیادہ اس کی دل جوئی کرتا، صبح شام اس کی رٹ لگی تھی تم میرے گھر کی ملکہ ہو، تم نے میرے گھر کو جنت بنا دیا، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ اتنی اچھی خوبصورت بیوی مجھے مل جائے گی۔
یہ جتنا زیادہ اپنی تعریفیں سنتی اتنی زیادہ نخرے ہیں آتی۔ خیر کچھ دن گزرے ایک دن یہ روتی دھوتی اپنے گھر واپس آئی خاوند اس کو میکے چھوڑ کر چلاگیا۔ ماں نے پوچھا بیٹی کیاہوا؟ کہنے لگی کہ خاوند بہت زیادہ محبت کے موڈ میں تھا مجھے پیار کررہاتھا چاہتاتھا کہ میں اس کے ساتھ محبت کااظہار کروں اور میں ایسے گم صم تھی کہ جیسے مجھ پر کوئی اثر ہی نہیں ہورہا۔
بالآخر تنگ آکر اس نے مجھے سے پوچھا کہ میں اس قدر تم سے محبت کرتا ہوں کیاتمہیں مجھ سے محبت ہے؟ کہنے لگی کہ پتہ نہیں کہ کیا میرے دماغ پر پردہ پڑاکہ میں نے اس وقت نخرے میں آکر کہہ دیا کہ نہیں مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔ بس یہ لفظ کہنے تھے کہ خاوند غصہ میں آگیا اور کہنے لگا کہ جب تمہیں مجھے سے محبت ہی نہیں تو جائو جہاں محبت ہووہیں زندگی گزارنا میری طرف سے تمہیں تین طلاق ہے اب جب شادی کے ایک مہینے بعد اس کو طلاق ہوگئی اور ھر ماں باپ کے گھر میں اس کو رہنا پڑا تب اس کی آنکھیں کھلیں۔
لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی
پھر اس کے بعد اس کی دوسری شادی نہ ہوسکی۔ اس لیے کہ جب اچھے رشتے تھے وہ کنواری لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے اور اس کے نام پر تو شادی کادھبہ لگ چکا تھا۔ اور جو رشتے آتے تھے وہ بہت بوڑھے شادی شدہ لوگوں کے آتے تھے ان سے شادی کرتے ہوئے یہ گھبراتی تھی۔ تو اس نوجوان، خوبصورت لڑکی کی زندگی روتے دھوتے ہی گزرگئی۔
تودیکھیں ! یہ کتنی بڑی بے وقوفی ہے وہ زندگی کا ساتھی ہے وہ اپنے دل کے سکون کے لیے دل کے اطمینان کے لیے اگر یہ چاہتا ہے کہ میں اس بیوی سے اتنی محبت کرتاہوں تو یہ بھی مجھ سے محبت کرے، تو بیوی کو اس کا اظہار کرنا چاہیے، کہنا چاہئے کہ ہاں آپ ہی سے تو محبت ہے، آپ ہی تو میری زندگی کے ساتھی ہیں، میری چاہتیں میری محبتیں ساری آپ ہی کے لیے ہیں، آپ نے ہی میرے لیے دنیا کو جنت بنادیا ہے میری تو خوشیاں ہی آپ کے ساتھ وابستہ ہیں ایسے الفاظ کہنے میں کیا رکاوٹ ہوتی ہے؟ سوائے اس کے کہ نفس کی شرارت ہوتی ہے یاشیطان بدتمیز اس کے پیچھے پریشان کرنے کے تلاہوا ہوتاہے اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
گناہ کیجئے مگر…
بنت انور؛ جامعہ خدیجۃ الکبری، چنیوٹ
حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہمa کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوااور عرض کی۔ عالیجاہ! مجھ سے بہت گناہ سرزد ہوتے ہیں آپ مجھے گناہوں کا علاج تجویز فرمائیے۔آپa نے پہلی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’ جب گناہ کرنے کا پکا ارادہ ہوجائے تو اللہ کا رزق کھانا چھوڑ دو۔ ‘‘ اس شخص نے حیرت سے عرض کیا:’’حضرت! آپ کیسی نصیحت فرما رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتاہے؟ جب کہ رازق وہی ہے تو میں اس کارزق چھوڑ کربھلا کس کی کھائوں گا!!! آپ aنے ارشاد فرمایا:’’دیکھ! کتنی بری بات ہے کہ جس اللہ کی روزی کھائو اس کی نافرمانی بھی کرتے رہو۔‘‘
پھر آپa نے دوسری نصیحت فرمائی:’’جب بھی گناہ کا ارادہ ہوجائے تو اللہ کے ملک سے باہر نکل جائو! اس نے عرض کی حضور! یہ کیسے ہوسکتاہے؟ ؟تمام مشرق، مغرب، شمال، جنوب دائیں بائیں، اوپر نیچے الغرض جدھرجائوں ادھر ہی اللہ کا ملک پائوں گا اللہ کے ملک سے باہر نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ ‘‘آپ aنے ارشاد فرمایا:’’ دیکھو !یہ کتنی بری بات ہے کہ اللہ کے ملک میں بھی رہو اور پھر اس کی نافرمانی بھی کرو۔‘‘پھرتیسری نصیحت آپa نے یہ ارشاد فرمائی:’’جب پختہ ارادہ ہوجائے کہ بس گناہ کر ہی ڈالنا ہے تو کر لو۔ لیکن اپنے آپ کو اتنا چھپالوکہ اللہ دیکھ نہ سکے۔‘‘اس نے حیرت سے عرض کیا:’’حضور! یہ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ مجھے دیکھ نہ سکے وہ تو دلوں کے احوال سے بھی باخبرہے۔‘‘تو آپ aنے ارشاد فرمایا:’’ دیکھو کتنی بری بات ہے جب تم اللہ کو سمیع وبصیر بھی تسلیم کرتے اور یہ بھی یقین کے ساتھ کہہ رہے ہو کہ اللہ ہر لمحے مجھے دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی گناہ کئے جارہے ہو!!!‘‘
چوتھی نصیحت یہ ارشاد فرمائی:’’جب ملک الموت سیدنا عزرائیل تمہاری روح قبض کرنے کے لیے تشریف لائیں تو ان سے کہہ دینا کہ تھوڑی سی مہلت دے دیجئے کہ میں توبہ کر لوں۔ ‘‘ اس شخص نے عرض کی: ’’حضور! یہ میں نے سنا ہے کہ موت کا وقت مقررہے اور مجھ ایک لمحہ بھی مہلت نہیں مل سکے گی فوراً میری روح قبض کر لی جائے گی۔‘‘
آپ aنے فرمایا: ’’جب تم یہ جانتے ہو کہ میں بے اختیار ہوں اور توبہ کی مہلت حاصل نہیں کر سکتا تو فی الحال جو وقت تمہارے پاس ہے اسی کو غنیمت جانتے ہوئے ملک الموت سیدنا عزرائیل کی تشریف آوری سے پہلے پہلے توبہ کیوں نہیں کرلیتے!!!
پھر آپ نے پانچویں نصیحت یہ فرمائی:’’جب تمہاری موت واقع ہوجائے اور قبر میں منکر نکیر تشریف لے آئیں تو ان کو قبر سے ہٹا دینا۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’عالیجاہ! یہ کیا فرمارہے ہیں ؟ میں انہیں کیسے ہٹا سکوں گا؟ مجھ میں اتنی ہمت کہاں ؟ آپ aنے ارشاد فرمایا:’’ جب تم منکر نکیر کو ہٹا نہیں سکتے تو ان کے سوالات کے جوابات دینے کی تیاری ابھی سے کیوں شروع نہیں کرتے!!!
چھٹی اور آخری نصیحت کرتے ہوئے آپa نے ارشاد فرمایا:’’ اگر قیامت کے دن تمہیں جہنم کا حکم سنایاجائے تو کہہ دینا کہ میں نہیں جاتا۔‘‘ اس نے عرض کی:’’ حضور! وہاں تو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘توآپa نے ارشاد فرمایا:’’ جب تمہارا یہ حال ہے کہ:
تم اللہ تعالیٰ کی روزی کھانے سے بھی باز نہیں آسکتے
اس کے ملک سے باہر بھی نہیں نکل سکتے
اس سے نظر بھی نہیں بچ سکتے
منکر نکیر کو نہیں ہٹا سکتے اور جہنم کے عذاب کا اگر حکم ہوجائے تو اسے بھی نہیں ٹال سکتے
تو…تو پھر گناہ کرنا ہی چھوڑدوتاکہ ان تمام مصائب سے محفوظ رہ سکو۔ اس شخص نے سیدنا ابراہیم بن ادہمa کے تجویز کردہ گناہوں کے علاج میں ان چھ نصیحتوں نے بہت اثر کیا وہ زاروقطار رونے لگا اور اسی وقت اس نے اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لی اور مرتے دم تک توبہ پر قائم رہا۔ توفیق توبہ آسمان سے اترتی ہے آج کوئی گناہ کرے پھر اسے موت تک توفیق ہی نہ ملے تو پھر کیا کروگے۔بعض لوگوں نے خوب گناہ کرکے اپنے نفس کواللہ کی نافرمانی میں گزاراتوپھر ان سے توبہ کی توفیق کو چھین لیا گیا۔