فیملی پلاننگ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
”فیملی پلاننگ “
………محمد شارب
یہ کیساانصاف ہے کہ ایک طر ف صنفی توازن کے بگڑنے کے حوالہ سے تشویش ظاہرکی جارہی ہے۔تو دوسری طرف آبادی میں اضافہ کے خوف سے ’فیملی پلاننگ ‘کاڈھونڈھورابھی خوب پیٹاجارہاہے۔ اور اس ’پلاننگ‘ میں سب سے زیادہ نشانہ صنف نازک ہی بن رہی ہیں۔پورے عالم میں عورتوں کے حقوق اورمساوات کی علمبردارقومیں،جماعتیں اورممالک ان کے حقوق اورتحفظ کی باتیں کررہے ہیں ،لیکن اس نام نہادترقی یافتہ دنیامیں انہیں جینے کے فطری حق سے ہی محروم کردیاجارہا ہے۔خصوصاپڑھے لکھے طبقہ میں یہ رجحان زیادہ ہے۔
زمانہ قدیم میں توشادی اورکفالت کے خوف سے لڑکیوں کوپیدائش کے بعدزندہ درگورکردیاجاتاتھا،لڑکیوں کی پیدائش کے وقت ہی مارے شرم کے وہ چھپتے پھرتے تھے اوربالآخرانتہائی بربریت کامظاہرہ کرکے انہیں درگورکرنے میں ذرابھی رحم نہ آتاتھا۔لیکن تعلیم یافتہ کہلائے جانے والے دورمیں پیداہونے کے بعدنہیں ،بلکہ پیدائش سے پہلے ہی غیرمطلوبہ کہہ کراسے ضائع کردیاجاتاہے اورصورت حال اس قدرتشویش ناک ہوگئی ہے کہ ایک سروے کے مطابق ملک میں ہرسال 25لاکھ لڑکیاں،رحم مادرمیں ہی قتل کردی جاتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے غلط بنیادوں پراصلاح کی عمارت کھڑی کی جارہی ہے۔ایک طرف تویہ نعرہ بھی لگایاجاتاہے کہ بڑھتی آبادی کوروکنے کیلئے ہرممکن اقدام کئے جائیں۔’’ہم دو،ہمارے دو‘‘کانعرہ لگاکر جنس کی شناخت کرنے والی مشینوں تک رسائی اوربازاروں میں اسقاط حمل کی دوائیوں کی بآسانی دستیابی نیزدیگرطریقہ کارکی زوردارتشہیرہورہی ہے،فیملی پلاننگ کاپاٹھ پڑھایاجارہاہے۔اورعام طورپراس بہانے سے زیادہ تر صنف نازک کوہی نشانہ بنایاجاتاہے۔دوسری طرف یہ شکوہ کرناکہ جنسی عدم مساوات میں اضافہ ہوتاجارہاہے،عقل ونظرکے تقاضا کے خلاف ہے۔ان تمام چیزوں کی موجودگی میں جنسی عدم مساوات کارونارونااورعورتوں کے حقوق کی بات کرناسراسرناانصافی اوردھوکہ ہے۔انسان کاسب سے بڑاحق تویہ ہے کہ اسے زندہ رہنے کاموقعہ دیاجائے لیکن یہاں تومساوات کی بات کرنے والوں نے اندرہی اندر اس صنف کودنیامیں آنے کے حق سے محروم کرنے کے لئے سارے سازوسامان تیاررکھے ہیں اوریہی کہلاتے ہیں عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے۔
معاشی ناہمواری کی افواہ اورفیملی پلاننگ کی خوب خوب تشہیرکے ذریعہ عام ذہنوں کو بہت سطحی بنادیاگیاہے۔اس کے پیچھے بڑھتی آبادی کے درپیش مسائل کا حوالہ دیاجاتاہے کہ بڑھتی آبادی سے ملک کا نظام،متاثرہوگااورذرائع کے محدودہونے کے ساتھ مسائل بھی بڑھیں گے۔اس سلسلہ میں واضح نظریہ مذہب اسلام نے پیش کیاہے۔خصوصامسلمان ،جوان کے دام فریب میں پھنس چکے ہیں انہیں اسلام کے اس نظریہ کودیکھناچاہئے۔ مذہب اسلام نے اس وہمی طلسم کوتوڑتے ہوئے اولایہ تصور بٹھایاکہ رزق کاذمہ انسان کے پاس نہیں ہے بلکہ خداتعالیٰ تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اورجودنیامیں آتاہے ،اسے بھی اس کاحصہ دے کربھیجاجاتاہے۔ پھرلڑکیوں کے قتل کوبڑاگناہ اورسنگین جرم قراردے کرکپکپادینے والی وعیدسنائی ،ان کے قتل کوسفاہت اورنادانی سے تعبیرکرتے ہوئے بتلایاکہ یہ خیال باطل ہے کہ ان کی وجہ سے فقروفاقہ میں مبتلاہوجاؤگے۔انسان کے ذہن کوجھنجھوڑنے کے لئے قیامت کی عدالت کا منظر کھینچااورپھرفرمایا ’’ زندہ درگورکی جانے والی لڑکیوں سے پوچھاجائے گاکہ وہ کس وہ جرم کی وجہ سے قتل کی گئی تھیں‘‘
کسی جرم سے بازرہنے کے لئے احساس جوابدہی کاپیداہوناضروری ہے اورجرائم پرگرفت کااحساس ہی انسان کوکسی جرم سے روک سکتاہے ورنہ کوئی طاقت اورکوئی قانون مجرمانہ ذہن کے لئے موثرنہیں ہوسکتا۔اس لئے مذہب اسلام نے پہلے اسے سنگین جرم قراردے کرکے آخرت میں جوابدہی کاتصوربٹھایا۔پھراس نے صنف نازک کی عزت افزائی کی،اس کی عظمت سے روشناس کرایا تاکہ انسان کے دل میں اس صنف کی عظمت بیٹھے جواس گناہ سے روکنے میں بے حدمعاون ہے۔ اس نے بتایاکہ یہ جنس اگرماں ہے تو قدموں کے نیچے جنت ،بیوی ہے توفرحت ،بہن ہے توعزت اوربیٹی ہے توباعث جنت۔ ان کوایک قیمتی سرمایہ قراردیتے ہوئے فرمایا’’لڑ کیوں سے نفرت مت کرواس لئے کہ یہ غمخواری کرنے والی ہیں اوربڑی قیمتی ہیں‘‘
(مسنداحمدبشرح الجامع الصغیر،ج۲،ص۴۹)
ہادی عالم ﷺنے فرمایا’’لڑکیوں کوبرانہ سمجھواس لئے کہ میں لڑکیوں کا باپ ہوں‘‘۔اس کے علاوہ ان کے ساتھ رحم کرنے اوران کی اچھی تربیت کرنے کی طرف ان الفاظ میں ترغیب دی’’جس نے دولڑکیوں کی پرورش کی اورادب سکھلایاتووہ میرے ساتھ جنت میں اس طرح رہے گاجس طرح ایک انگلی دوسری انگلی سے ملی ہوتی ہے اورآپﷺنے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے دکھلایا (ابوداؤدشریف) نیز لڑکیوں کی حسن تربیت پریہ مژدہ سنایاکہ یہ لڑکیاں اس کے لئے دوزخ سے آڑبن جائیں گی
(مسلم شریف کتاب البروالصلۃ)
سراقہ بن مالک سے آپﷺنے فرمایاکہ کیاتم کونہ بتلاؤں کہ سب سے بڑاصدقہ کیاہے، انہوں عرض کیاضروربتائیے فرمایا’’اس لڑکی کے ساتھ اچھا برتاؤ کروجوتمہارے حوالہ کی گئیں‘‘۔ان ہی ترغیبات نے ایساانقلاب برپاکیاکہ وہ لوگ ، جوکل تک لڑکیوں کوزندہ درگورکردیاکرتے تھے،جن کے یہاں یہ ایک بوجھ اورمکروہ صنف سمجھی جاتی تھیں اب ’’حضرت حمزہؓ کی یتیم بچی کی پرورش کرنے کے لئے آپس میں جھگڑنے لگے‘‘۔
اسلام نے باپ کی نگاہ میں ہی صرف انہیں محبوب ہی نہیں بنایابلکہ سماج میں بھی ایک عزت اورمقام عطاکیاہے،وراثت میں ان کاحصہ متعین کیا، ان کے تحفظ کے لئے پردہ کولازم قراردیا،لباس کی حدمتعین کی ،غیرمردکے سامنے بے حجاب رہنے اورآنے کوان کے لئے مضرقراردے کراپنی عصمت کی حفاظت کوہی ان کے لئے کمال قراردیا۔مردکوقوام بناکران کے سرسے کمائی کابوجھ اتارا ،ان پرخرچ کرنے کوصدقہ کے برابر نیکی قراردیا۔اس نے ان اچھی تربیت کی طرف توجہ دلائی کیونکہ اس مقدس جنس کی گودمیں صرف ایک انسانی جسم کی ہی پرورش نہیں ہوتی بلکہ ایک سماج،ایک معاشرہ ،ایک تہذیب کی نشوونمااوراخلاق وکردارکی بھی پرورش ہوتی ہے ، اس مقدس ہستی کے ساتھ تقدیس کارشتہ ہرایک انسان سے جڑاہوتاہے،وہ، صالح معاشرہ کی تشکیل میں اہم کرداداداکرسکتی ہے کیونکہ سماج خاندان سے بنتاہے اورخاندان فردسے۔اورفردکی اچھی تربیت جوماں کی گودمیں ہی ممکن ہے، اچھے سماج کی تشکیل میں اہم کرداراداکرسکتی ہے۔
اب اگرہم اس سلسلہ میں سنجیدہ ہیں ،واقعی عورتوں کے حقوق کے تئیں فکرمندہیں اور’بیٹی بچانا‘چاہتے ہیں توضروری ہے کہ تعصب کے تمام ترعینک کو اتارکرمذہب اسلام کے نظریات کوتسلیم کرناہوگااور اس مفروضہ کو ختم کرناہوگاکہ آبادی کے اضافہ کی وجہ سے معیشت کامسئلہ پیداہوسکتاہے۔ یہ فطرت سے بغاوت ہے اوراس بغاوت کاانجام ہلاکت وبربادی ہے۔لہٰذا تصورکاذہن نشیں ہوناضروری ہے کہ رزق کاذمہ خدانے لے رکھاہے جوہمیں بھی رزق دیتاہے اورہردنیامیں آنے والے کواس کے حصہ کارزق دے کربھیجتاہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی عمومی طورپروالدین کی آمدنی میں اضافہ ہوتاہے اوریہ بھی دیکھاجاتاہے کہ آباد ی میں جیسے جیسے اضافہ ہورہاہے،وسائل بھی وسیع ہوتے جارہے ہیں۔آج کے دورمیں پٹرولیم وغیرہ کے قدرتی معاشی نظام کی دریافت اورکھیتوں میں پہلے کے مقابلہ میں زیادہ پیداواراس کی واضح مثالیں ہیں۔دوسرا یہ کہ اس مقدس صنف کی عظمت دل میں ہواورساتھ ساتھ تصورآخرت اوراحساس جوابدہی بھی کہ ہمیں اس قتل کاجواب دیناہوگا۔خواہ یہ قتل کسی صورت سے بھی ہو۔ پیدائش سے پہلے یامانع حمل اوراسقاط حمل کی کوئی اورصورت اختیا رکی جائے، قتل اولادمیں یہ ساری صورتیں داخل ہیں۔ اگرواقعی اس چیلنج سے نمٹنے میں کوئی سنجیدہ ہے تواسے وہمی دنیا سے باہر نکلنا ہو گا،خداکی تقدیرپرراضی رہناہوگااور’’فطرت سے بغاوت‘‘ کامزاج ختم کرنا ہوگاورنہ فیملی پلاننگ کے ساتھ ساتھ صنفی عدم توازن کے چیلنج سے نمٹا نہیں جا سکتا۔