اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر انعامات

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر انعامات
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم ہر روز یہ دعا مانگتے ہیں:
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ O صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ O
سورۃ الفاتحہ، آیت نمبر 7،6
ترجمہ: )اے اللہ( ہمیں ایسے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ اُن کے راستے کی جن پر غضب نازل کیا گیا اور نہ ہی بھٹکے ہوئے لوگوں کے راستے کی۔
قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان انعام یافتہ لوگوں کی تعیین کی ہے، وہ یہ ہیں:
أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ
سورۃ النساء، آیت نمبر69
ترجمہ: جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے وہ انبیاء، صحابہ، شہداء اوراولیاء ہیں۔
قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اطاعت کا دائرہ بہت وسیع ہے: اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سب کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ اور ساتھ میں اس پر ملنے والے انعامات جبکہ نافرمانوں کی سزا کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ چند آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں:
اطاعت گزاروں پر انعامات:
1: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللہُ غَفُوْر رَّحِیْمO
سورۃ آل عمران، آیت نمبر 31
ترجمہ: اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری باتوں پر عمل کرو خود اللہ تم سے محبت فرمائے گا مزید یہ کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بہت مہربان ہے۔
اس آیت مبارکہ میں دد انعاموں کا تذکرہ موجود ہے: پہلا اللہ رب العزت کی محبت کا ملنا جو کہ تمام انعامات میں سے سب سے بڑا انعام اور مقصد حقیقی ہے جس خوش نصیب کو یہ انعام مل جائے تو اسے اور کسی چیز کی ضرورت ہی کہاں رہتی ہے؟
دوسرا انعام گناہوں کی بخشش کرنے کی صورت میں عطا فرمایا ہے کہ تمہاری زندگی میں جو گناہ ہو گئے ہیں ان کا تقاضا تو یہی تھا کہ تمہیں اس کی سزا دیتا لیکن تم نے میرے رسول کی اطاعت کر کے مجھے خوش کیا ہے اس لیے میں تمہارے گناہوں کو بھی معاف کر تا ہوں۔
2: وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ O
سورۃ آل عمران، آیت نمبر 132
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ دنیا میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ہمارے اوپر مصائب ومشکلات آتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی اسے ہی عذاب ہو گا جس سے اللہ ناراض ہوں گے اطاعت کی وجہ سے اللہ کا رحم فرماتے ہیں دنیا میں مشکلات اور مصائب و حوادثات سے پناہ عطا فرماتے ہیں جبکہ آخرت میں عذاب سے محفوظ فرمائیں گے۔
3: تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ O
سورۃ النساء، آیت نمبر 13
ترجمہ: یہ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جس میں نہریں بہتی ہوں اور یہ ہمیشہ ہمیشہ اسی )جنت (میں رہیں گے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں اطاعت پر ملنے والا انعام یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایسی جنت عطا فرمائیں گے جس میں نہریں بہتی ہوں۔ اور اسے ہی بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ
سورۃ محمد، آیت 15
ترجمہ: اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ایسی ہو گی کہ اس میں پانی کی نہریں ہوں گی جو پانی خراب نہیں ہوگا ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں خراب ہوگا ایسی شراب طہور کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذیذ اور مزے دار ہوگی اورایسے صاف شہد کی نہریں ہیں جس کے اوپر سے جھاگ اتار لی گئی ہے اور ان جنت والوں کے لیے وہاں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش کا اعلان۔ بھلا یہ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور انہیں گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے گا۔
4: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا O
سورۃ النساء، آیت نمبر69
ترجمہ: جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے یہی وہ لوگ ہیں جو اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے وہ انبیاء، صحابہ، شہداء اوراولیاء ہیں۔ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی اچھی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اطاعت اختیار کرنے والوں کا یہ انعام ذکر کیا ہے کہ ان کو انبیاء، صحابہ، شہداء اور صلحاء )نیک لوگوں(کی معیت نصیب ہو گی جہاں وہ جائیں گے وہاں یہ بھی جائیں گے اور اللہ رب العزت نے اس کو بہت ہی خوبصورت رفاقت )دوستی (قرار دیا ہے۔
5: مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ
سورۃ النساء، آیت نمبر 80
ترجمہ: جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کیا یقینا اس نے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا۔
اس آیت مبارکہ میں اطاعت رسول پر ملنے والے ایک انعام کا تذکرہ موجود ہے وہ یہ کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ ایک بندے کے لیے اپنے خالق کی بات مان کر اسے خوش کر لینے سے بڑا انعام اورہو ہی کیا ہو سکتا ہے؟
6: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ O
سورۃ الانفال، آیت نمبر 64
ترجمہ: اے نبی تمہارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور ان اہل ایمان کے لیے بھی جو آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں یہ انعام مذکور ہے اللہ رب العزت اطاعت گزاروں کو تسلی دے رہے ہیں میں اللہ تمہارے لیے کافی ہوں کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
7: قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
سورۃ النور، آیت نمبر 54
ترجمہ: اے میرے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم نے اس سے منہ موڑا تو اس کا وبال تمہارے اوپر ہی ہوگا اور اگر تم نے اطاعت کر لی تو ہدایت پا لو گے اور رسول کے ذمے تو بات واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے جس انعام کا تذکرہ فرمایا ہے وہ ہے ہدایت۔ اللہ کے خزانوں میں ہدایت سب سے قیمتی خزانہ ہے اطاعت کی وجہ سے اللہ کامل ہدایت عطا فرماتے ہیں ہدایت کی وجہ سے انسان کے عقائد، اعمال، اخلاق اور طرز معاشرت سب درست ہوتے ہیں۔
8: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 71
ترجمہ: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
اس آیت مبارکہ میں اطاعت گزاروں کو اللہ رب العزت بہت بڑی کامیابی کا پروانہ دے رہے ہیں۔
اطاعت سے منہ موڑنے والوں کی سزا:
1: وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ O
سورۃ النساء، آیت نمبر 14
ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ کی قائم کردہ حدود سے آگے بڑھے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو آگ میں ڈال دیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہو گا۔
اس آیت مبارکہ میں اطاعت سے منہ موڑنے والوں کو آگ اور رسوا کن عذاب کی خبر دی گئی ہے۔
2: إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا O خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا O يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَالَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا O
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 66،65،64
ترجمہ: بے شک اللہ رب العزت اپنے دین کے نہ ماننے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں اور ان کو سزا دینے کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کا کوئی یار و مددگار نہیں ہوگا اس دن منہ کے بل وہ آگ میں ڈالے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ اے کاش کہ ہم اللہ اور اور کے رسول کی اطاعت کر لیتے۔
ان آیات مبارکہ میں اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کے لیےاللہ کی لعنت، ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم اور آخرت میں اپنی بدبختی پر حسرت کا تذکرہ ہے۔
اطاعت اس وقت ہوتی ہے جب دل میں اس کے بارے احترام اور محبت کے جذبات ہوں۔ بحیثیت مسلمان ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اپنے والدین، اولاد اور ساری مخلوق سے زیادہ محبت کرتے ہیں، یہی محبت ہمارا ایمان ہے، اسی محبت پر شفاعت کی امیدیں وابستہ ہیں، یہی محبت ہی ہمارے کل دین کی اساس و بنیاد ہے۔
ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین اور آپ کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں گے تو ہمارا دعویٰ محبت سچا ثابت ہو گا اس کے لیے ہمیں اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کرنا ہوگا کیونکہ بغیر علم کے یہ ممکن نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہماری زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کس قدر ضروری ہیں۔
علم کے بعد عملاً ایسے طرز پر زندگی گزارنی چاہیے جو سنت رسول کی عکاس ہو، خیر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے اور شر کی باتیں بھی معلوم ہوں تاکہ ان سے بچا جا سکے۔
آپ کی محبت جب تک تمام محبتوں پر غالب رہے گی، آپ کی سنت جب تک تمام معاشرتی طور طریقوں پر غالب رہے گی، آپ کی تعلیمات جب تک تمام تعلیمات پر غالب رہیں گی اور سب سے بڑھ کر آپ کی ناموس کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ جب تک دلوں میں باقی رہے گا ہم اور ہماری نسلوں کا ایمان باقی رہے گا۔ ورنہ خاکم بدہن اس میں کمی آ گئی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
والسلام
محمد الیاس گھمن
جامع مسجد الفلاح، چکوال
جمعرات، 15 نومبر، 2018ء