سورۃ الروم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ الروم
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾ فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ﴿۳﴾﴾
روم وفارس کی جنگ اور نزولِ سورت کا قصہ:
مکہ مکرمہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلانِ نبوت فرمایا تو اس وقت عرب سےباہر دو بہت بڑی طاقتیں تھیں؛ ایک روم اور دوسری ایران۔روم میں عیسائیوں کی حکومت تھی اور ایران میں آتش پرستوں، مجوسیوں اور آگ کے پجاریوں کی حکومت تھی۔ مسلمان چونکہ اسلامی تعلیم اور آسمانی کتاب کو مانتے تھے اور عیسائی آسمانی کتاب؛ انجیل کو مانتے تھے اس لیے مسلمانوں کی کسی قدر نزدیکی اور قرب عیسائیوں سے تھا۔
عیسائی بھی اللہ کو مانتے ہیں مسلمان بھی مانتے ہیں، عیسائی قیامت کو مانتے ہیں مسلمان بھی مانتے ہیں، عیسائی رسالت کو مانتے ہیں مسلمان بھی مانتے ہیں اور مشرکین؛ اللہ کے ساتھ بتوں کو بھی معبود مانتے تھے جس کو عیسائی نہیں مانتے تھے، مشرکین قیامت کا انکار کرتے تھے عیسائی اقرار کرتے تھے، مشرکین رسالت کو نہیں مانتے تھے اور عیسائی مانتے تھے، اس لیے مسلمانوں کی ذہنی ہم آہنگی اہلِ روم کے ساتھ تھی۔ اگر ان میں جنگ ہو اور رومی غالب ہوں تو مسلمانوں کو خوشی ہوتی تھی اور اگر ایرانی غالب ہوں تو مشرکین کو خوشی ہوتی تھی۔
ایک مرتبہ جنگ ہوئی جس میں ایرانی غالب آ گئے تو مشرکین خوش ہوئے۔ اس کے بعد قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں :
﴿غُلِبَتِ الرُّوۡمُ﴾
روم مغلوب ہوگیا،
﴿فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ﴾
قریب کی زمین میں۔ اس سے مراد ملک شام کے علاقے اذرعات اور بصریٰ ہیں جو رومی سلطنت کا حصہ تھے اور بنسبت ایران مکہ سے قریب تھے۔ یعنی رومیوں کی زمین میں جنگ ہوئی اور ایرانی غالب آئے۔
﴿وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ﴾
ایک وقت آئے گاکہ پھر روم والے عیسائی ایرانیوں پر غالب آئیں گے۔ کب؟
﴿فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ﴾
چند سالوں میں۔
”بِضْعٌ“
عربی میں کہتے ہیں تین سے لے کر نو تک نو، یعنی تین سے زائد اور نو سے کم ہوں، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو کو بضع کہتے ہیں۔
﴿لِلہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ﴾
جب رومی مغلوب تھے تب بھی اللہ کا حکم چلتا تھا اور جب یہ غالب ہوں گےبھی اللہ کا حکم چلے گا۔
﴿وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ بِنَصۡرِ اللہِ﴾
اور جب رومی غالب آئیں گے تو مؤمنین خوش ہوں گے اللہ کی مدد کی وجہ سے۔ اللہ کی مدد کا معنی کہ رومی بھی کافر ہیں اور ایرانی بھی کافر ہیں۔ اب کسی ایک کے ساتھ اللہ کی مدد یہ اسلام اور کفر والی نہیں ہے بلکہ اللہ کی مدد کا معنی یہ ہے کہ روم کو اللہ غالب کر کے مسلمانوں کو خوشی دیں گے اور یہ مسلمانوں کی خوشی اللہ کی مدد کی وجہ سے ہے۔
صدیق اکبر کا شرط لگانا:
جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابی بن خلف سے یہ شرط لگائی کہ تین سال میں ر ومی غالب آئیں گے میں یہ قسم کھاتا ہوں۔ اس نے کہا کہ نہیں آئیں گے۔ شرط لگ گئی دس دس اونٹوں کی کہ اگر روم غالب آ گیا تو ابی بن خلف دس اونٹ دے گا اور اگر ایران غالب آ گیا تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دس اونٹ دیں گے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کریم میں تو
﴿بِضۡعِ سِنِیۡنَ﴾
کہا ہے اور
”بِضْع“
تو تین سے لے کر نو تک کو کہتے ہیں۔ لہذا جا کر شرط تبدیل کرو۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آئے تو ابی بن خلف سے کہا کہ تین نہیں نوسال میں اندر غالب ہوں گے اور شرط ہم دس اونٹ کے بجائے سو اونٹ کی لگا لیتے ہیں۔ ہم مدت بھی بڑھا دیتے ہیں اور شرط میں اونٹ بھی بڑھا دیتے ہیں۔ ابی بن خلف نے کہا کہ مجھے منظور ہے۔ اس کو یہ اندیشہ ہوا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہیں مکہ چھوڑ کر ہجرت نہ کر جائیں تو اس نے کہا کہ اپنا کوئی ضامن دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا ضامن اپنے بیٹے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بنایا کہ میرا یہ ضامن ہے۔
ایک وقت آیا کہ جنگ بدر ہوئی اس میں ابی بن خلف مارا گیا۔ اس کے ایک سال بعد روم والے غالب آگئے۔ اب ابی بن خلف تو موجود نہیں تھا۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کے ورثاء سے مطالبہ کیا شرط کا تو اس کے بیتے نے سو اونٹ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دیے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ سو اونٹ لے کر مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”ھٰذَا السُّحْتُ تَصَدَّقْ بِہٖ“
کہ یہ تو ناپسندیدہ مال ہے، ہم اس کو نہیں لے سکتے اس لیے تم اس کو صدقہ کردو۔
”سُحت“
کے کئی معانی آتے ہیں، معروف معنی اس کا ”گناہ“ ہوتا ہے، اس کے علاوہ نا پسندیدہ چیز کو بھی
”سُحت“
کہتے ہیں۔ یہ مال حرام نہیں تھا کیونکہ جس وقت انہوں نے ان کے ساتھ شرط لگائی تھی توشرط حرام نہیں تھی تو پھر مال حرام کیسے ہوا؟ اس لیے میں اس کا جواب عرض کر رہا ہوں کہ ”سُحت“کا متعارف معنی اگرچہ حرام ہے لیکن عام معنوں میں
”سُحت“
ہر اس مال کو بھی کہتے ہیں جو ناپسندیدہ ہو اگرچہ حلال ہو۔ تو مال حلال ہونے کے باوجود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا بلکہ اس سارے مال کو آپ نے صدقہ فرما دیا۔ یاد رکھیں کہ اب دو طرفہ شرط حرام ہے۔
پانچ نمازوں کا اشارہ:
﴿فَسُبۡحٰنَ اللہِ حِیۡنَ تُمۡسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ ﴿۱۷﴾ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾﴾
اللہ رب العزت کی پاکی بیان کیا کرو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو، آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی حمد بیان ہوتی ہے، اور پچھلے پہر بھی اللہ کی پاکی بیان کیا کرو اور ظہر کے وقت بھی۔
”عَشِيًّا“
کا ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کرتے ہیں ”آخری وقت“ اور شاہ رفیع الدین فرماتے ہیں ”سہ پہر“۔ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ پچھلے پہر سے مراد عصر کی نماز ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا معنی ” بعد زوال“ فرمایا۔ ”عَشِيًّا“ زوال کے بعد ہی ہوتا ہے خواہ کتنی ہی دیر بعد ہو۔ تو یہاں فرمایا شام، صبح، عصر اور ظہر۔ یہ آیت چونکہ مکی ہے تو بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مراد خاص چار اوقات ہیں :
شام کا وقت
صبح کاوقت
عصر کا وقت
ظہر کا وقت
آیت مکی ہے اور مراد عام تسبیحات ہیں اس سے مراد نمازیں نہیں ہیں۔
بعض حضرات نے اس سے مراد نمازیں لی ہیں کہ اس آیت میں پانچ نمازوں کا اشارہ نکلتاہے۔
﴿حِیۡنَ تُمۡسُوۡنَ﴾
میں مغرب اور عشاء دونوں شامل ہیں،
﴿حِیۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ﴾
میں فجر کی نماز ہے،
﴿عَشِیًّا﴾
میں عصر کی نمازہے اور
﴿حِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ﴾
میں ظہر کی نماز ہے۔
اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
﴿حِیۡنَ تُمۡسُوۡنَ﴾
میں مغرب ہے،
﴿حِیۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ﴾
میں صبح ہے،
﴿عَشِیًّا﴾
میں عصر ہے اور
﴿حِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ﴾
میں ظہر ہے۔ باقی نماز عشاء رہ جاتی ہے تو اس کے لیے قرآن کریم میں ایک مقام پر ہے
﴿ثَلٰثُ عَوۡرٰتٍ لَّکُمۡ﴾
کہ تین مقامات ایسے ہیں جس میں تمہیں بطور خاص پردے کا خیال رکھنا چاہیے، ان میں ایک وقت
﴿مِنۡۢ بَعۡدِ صَلٰوۃِ الۡعِشَآءِ﴾
ہے،
النور24: 58
اس میں عشاء کی نماز کا صراحتاً تذکرہ موجود ہے۔ اس لیے چار نمازوں کا تذکرہ یہاں پر ہے اور پانچویں نماز کا ذکر وہاں پر ہے۔ اس طرح یہ پانچ نمازیں بنتی ہیں۔
ایک عجیب نکتہ:
ہاں ایک بات یہ سمجھیں کہ ﴿تُمۡسُوۡنَ﴾ کو ﴿تُصۡبِحُوۡنَ﴾ پر مقدم کیا ہے یعنی شام کا ذکر پہلے کیا ہے اور صبح کا ذکر بعد میں کیا ہے حالانکہ عام طور پر صبح پہلے ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا آغاز شام سے ہوتا ہے صبح سے نہیں ہوتا، اسلامی تاریخ کی یکم غروبِ شمس کے بعد ہوتی ہے طلوعِ صبح کے بعد نہیں ہوتی، اس لیے شام پہلے ہے اور صبح بعد میں۔ اسی طرح
﴿وَ عَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ﴾
میں یہاں عصر کا وقت پہلے ذکر کیا اور ظہر کا بعد میں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عصر کا وقت تجارت کے لیے بنسبت ظہر کے زیادہ مشغولیت ومصروفیت کا ہوتا ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ذکر پہلے کیا ہے۔
قدرتِ حق کی نشانیاں:
﴿وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱﴾﴾
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی پانچ نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں دوسری نشانی یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے تمہاری بیویاں پیدا فرمائی ہیں۔ ”تم میں سے“ سے مراد یہ ہے کہ تمہاری جنس انسان ہی سے پیدا فرمائی ہیں۔ اللہ کی کمال قدرت ہے کہ خوراک ایک ہے، مٹی ایک ہے، مادہ ایک ہے لیکن پیدا ہونے والے بچوں میں یہ دونوں قسمیں پیدا فرما دی ہیں۔ پھر اللہ رب العزت نے دونوں کے جسم اور اعضاء الگ الگ پیدا فرما دیے ہیں، دونوں کے تقاضے الگ بنا دیے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔ ایک ہی پانی سے مرد پیدا ہورہاہے اور اسی سے عورت پیدا ہو رہی ہے۔ مرد کے جسم کے تقاضے بالکل الگ رکھے ہیں اور عورت کے جسم کے تقاضے بالکل الگ رکھے ہیں، اور عورت کی پیدائش کا مقصد کیا ہے؟
﴿لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا﴾
تاکہ مرد کو اس سے راحت ملے۔
﴿وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً﴾
اور اللہ رب العزت نے تم دونوں کے درمیان مودت یعنی پیار کو رکھا ہے، اور رحمت یعنی شفقت کو رکھا ہے۔
محبت اور مودت:
﴿وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً﴾
اب دیکھیں کہ دو بندے ایک کمرے میں رہتے ہوں، ا ن دونوں کے درمیان قلبی محبت نہ ہو، وہ ایک دوسرے کا کام بھی کریں گے لیکن سکون پھر بھی نہیں ہو گا۔ اب ان دونوں میں سکون کیسے ہو گا؟ تو فرمایا کہ ہم نے خاوند اور بیوی میں باہمی سکون پیدا کرنے کے لیے ان میں محبت پیدا فرمائی ہے۔ اور
﴿مَّوَدَّۃً﴾
کو پہلے ذکر کیا اور
﴿رَحۡمَۃً﴾
کو بعد میں ذکر کیا۔مودت کہتے ہیں محبت کو اور رحمت کہتے ہیں ہمدردی اور شفقت کو۔ اس لیے کہ مودت کا تعلق جوانی کے ساتھ ہے اور رحمت کا تعلق بڑھاپے کے ساتھ ہے، جب انسان عالمِ شباب میں ہو تو اس کے مزاج میں محبت اور پیار غالب ہوتاہے اور جب انسان عالم شباب سے بڑھاپے کی طرف جائے تو پھر محبت کے جذبات کم ہو جاتے ہیں پھر شفقت اور ہمدری کے جذبات زیادہ ہو جاتے ہیں، اس لیے جوانی میں ایک دوسرے سے پیار کریں گے اور بڑھاپے میں ایک دوسرے کا بطور ہمدری اور شفقت کے خیال رکھیں گے۔ اللہ ہمیں یہ باتیں سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔
فطرت سے کیا مراد ہے؟
﴿فِطۡرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللہِ﴾
یہاں
”اِتَّبِعْ“
فعل محذوف ہے یعنی
”اِتَّبِعْ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا“
کہ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدافرمایا ہے اس کی اتباع کرو اور اللہ نے جو فیصلہ فرمایا جو فطرت پیداکی ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ یہاں ”فطرت“ سے کیامرادہے؟ بعض کہتے ہیں کہ فطرت سے مراد فطرتِ اسلام ہے۔ یہ معنی لیں تو ا س پر کئی اعتراضات ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ اگر فطرت سے مراد فطرتِ اسلام ہے تو یہ تو بدلتی ہے کہ بندہ کبھی کافر بھی ہو جاتا ہے حالانکہ
﴿لَا تَبۡدِیۡلَ لِخَلۡقِ اللہِ﴾
اللہ جس فطرت پر پیدا فرمائیں تو اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
اس پر اور بھی بہت سارے سوالات ہوتے ہیں لیکن میں نے پہلے آپ سے گزارش کی ہے کہ میں دروس القرآن میں لمبی باتیں کرنے کے بجائے فیصلہ کن بات کرتا ہوں، کئی اقوال نقل کرنے کے بجائے قولِ راجح پیش کرتا ہوں اور لمبی بحثوں کے بجائے صرف وہ بات کرتا ہوں جس کا تعلق قرآن کریم کی تفسیر سے ہو۔
اس لیے راجح قول یہ معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سے مراد ہے کہ اللہ نے ہر بندے میں حق قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھی ہے اور اس کو دنیا کا کوئی شخص تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہ تو ہے کہ بچہ فطرت اسلا م پر پیدا ہو
”فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ“
صحیح البخاری، رقم : 1358
اور اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیں یا عیسائی بنا دیں لیکن حق کو قبول کرنے کی استعداد پھر بھی ختم نہیں ہوتی وہ تو موت تک رہتی ہے۔ تو اللہ رب العزت نے انسان کی طبیعت میں یہ استعداد پیدا فرمائی ہے۔ اگر موانع اور رکاوٹیں اسلام لانے کے راستے میں نہ ہوں تو ہر بندہ مؤمن بن جائے گا، ماحول انسان کو اسلام لانے سے روک دیتاہے، والدین روک دیتے ہیں، بسااوقات ذاتی اغراض روک دیتی ہیں لیکن اللہ رب العزت نے انسان کی طبیعت میں جو قبول اسلام کی استعداد رکھی ہے وہ استعداد کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔
انسانی اعمال کا اثر:
﴿ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾﴾
انسانوں نے جو اعمال کیے جو اپنے ہاتھوں کمایا اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے کیے ہوئے کاموں کا کچھ مزا چکھائے، شاید یہ لوگ باز آ جائیں اور خدا کی طرف رجوع کریں۔
نیکو کار لوگوں پر تکلیف کی وجہ:
بظاہر اشکال ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی تکلیف جو بھی مصیبت اور جو بھی طوفان آتا ہے اگر اس کی وجہ انسانی اعمال ہیں تو پیغمبر پر تکلیف آتی ہے، ولی پر تکلیف آتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی آفتیں پہنچتی ہیں تو کیا -العیاذ باللہ- ان کو بھی تکلیفیں ان کے اعمال کی وجہ سے پہنچتی ہیں؟ تو بظاہر اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے۔
اب اس کا جواب سمجھیں۔ ایک ہے فساد کی علتِ تامہ اور ایک ہے فساد کا سبب۔ علتِ تامہ کا مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف یہی وجہ ہے اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں اسے علت تامہ کہتے ہیں۔ تو اس دنیا میں مصائب کی علتِ تا مہ یہ انسان کے اعمال نہیں ہیں کہ دنیا میں جو بھی مصیبت آتی ہے انسان کے عمل کی وجہ سے آتی ہے، جو بھی خوشی ہوتی ہے تو نیک عمل کی وجہ سے ہوتی ہے، چنانچہ
”بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ“
میں ”ب“ علت کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ”ب“ سببیت کے لیے ہے یعنی دنیا میں انسان پر جو مصیبت اور تکلیف آتی ہے اس کا ایک سبب انسان کا عمل ہوتا ہے۔ تو یہ ہو سکتا ہے کہ تکلیف آئے اور اس کا سبب انسان کا اپنا عمل نہ ہو بلکہ اس کا سبب کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ انسان برا عمل کرے اور اس کے بدلے میں اس پر تکلیف نہ آئے۔ تو دونوں چیزیں ممکن ہیں۔
اب دنیا میں جو آفات آتی ہیں ان کا ایک ہوتا ہے سببِ ظاہری اور ایک ہوتا ہے سببِ باطنی۔ ظاہری اسباب کو اسبابِ طبعیہ اور اسبابِ مادیہ بھی کہتے ہیں۔ مثلاً آگ ہے اس کی طبیعت میں ہے کہ یہ جلاتی ہے، پانی ہے اس کی طبیعت میں ہے کہ یہ غرق کرتاہے، ہوا ہے اس کی طبیعت میں ہے کہ یہ دھکیلتی ہے، یہ سب طبعی اور مادی اسباب ہیں، اور بعض اسباب باطنی ہوتے ہیں یعنی اس کا تعلق انسان کے عقائد اور اعمال سے ہوتا ہے۔ کبھی دونوں سبب جمع ہوتے ہیں تو نتیجہ اس کے مطابق نکلتا ہے، کبھی ایک سبب ہوتا ہے اور دوسرا نہیں ہوتا تو نتیجہ کبھی سببِ طبعی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی سببِ باطنی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
مثال سمجھیں کہ ایک شخص بس پر جا رہا ہے اور آگے دوسری بس آئی اور ایکسیڈنٹ ہو گیا اور یہ جانے والا شخص کافر ہے یا علانیہ فاسق ہے۔ جب بس بس سے ٹکرائے گی تو تباہی ہو گی تو یہ طبعیت ہے اور یہ شخص ہے بھی مجرم۔ اب یہاں پر سببِ طبعی و مادی بھی موجود ہے اور سببِ باطنی بھی موجود ہے تو تباہی ہو گئی ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک سبب ہوتاہے اور دوسرا نہیں ہوتا یا دونوں نہیں ہوتے۔ مثلا ًایک شخص بس پر لاہور سے سرگودھا آ رہا ہے۔ بس بس سے ٹکرائی بھی نہیں اور یہ بندہ بھی نیک ہے۔ تو جب نہ ٹکرائے تو تباہ بھی نہیں ہونا چاہیے اور نیکی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مصیبت نہ آئے۔ اب یہا ں دونوں سبب اچھے موجودہیں تو نتیجہ اچھا ہے اور وہاں دونوں سبب برے تھے تو نتیجہ بھی برا تھا۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گاڑی گاڑی سے ٹکراتی ہے اور بندہ نیک ہوتا ہے۔ اب یہاں پر سببِ طبعی موجود ہے تباہی کا لیکن سببِ باطنی یعنی بد عملی موجود نہیں ہے، اب اگر گاڑی تباہ ہو جاتی ہے تو یہ سببِ طبعی کی وجہ سے ہوئی ہے، سببِ باطنی موجود نہیں ہے اور کبھی گاڑی گاڑی سے ٹکراتی ہے گاڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور بندہ پھر بھی ٹھیک ہوتاہے، اب اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نیک تھا، نیکی کی وجہ سے خدا نے اس کو بچا لیا ہے، اب اس کا سببِ باطنی کام آ گیا ہے۔ اس طرح اسباب میں تفاوت بھی ہوتا ہے اور کبھی سبب جمع بھی ہوتا ہے کہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوتی ہیں۔
تو میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ کبھی کوئی پریشانی اور مصیبت آتی ہے تو اس کی وجہ صرف اعمالِ بد نہیں ہوتے بلکہ کبھی اعمالِ بد سبب بنتے ہیں اور کبھی نہیں بنتے۔
﴿بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ﴾
میں یہ جو کسبِ اعمال ہےیہ سبب ہے، یہ علتِ تامہ نہیں ہے۔ اس لیے جب بھی کسی شخص پر کوئی مصیبت دیکھیں تو یہ فتویٰ نہ لگایا کریں کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہوگا! آپ کسی مدرسے کے شیخ الحدیث کو دیکھیں۔ اس کی موت کا وقت ہے اور شدید تکلیف میں ہے تو آپ کبھی فتویٰ نہ لگائیں کہ یہ حرام مال کھاتا ہو گا! موت میں کسی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو کبھی نہ کہنا کہ یہ طلبہ پر ظلم کرتا ہو گا تبھی تو اس کے ساتھ ایسا ہوا ہے!
جب یہ ساری بات سامنے ہو گی تو آپ کبھی بھی کسی بندے پر فتویٰ نہیں لگائیں گے۔میری گزارش سمجھ آ رہی ہے نا؟ (جی ہاں۔ سامعین) میں بار بار ایک بات کہتا ہوں کہ دین کوسمجھیں! دین کو سمجھیں! حدیث پاک میں ہے:
مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهٖ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ․
صحیح البخاری، رقم : 71
کہ اللہ پاک جب کسی کے ساتھ بھلائی کا فیصلہ فرمائیں تو اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں۔ تو اگر دنیا میں آفت کی علتِ تامہ؛ اعمالِ بد ہوتے تو پھر یہ بات ٹھیک تھی جبکہ دنیا میں آفت کی علتِ تامہ یہ انسان کے اعمال نہیں ہیں بلکہ یہ سبب ہیں، کبھی تکلیف برے عمل کی وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی تکلیف اور آفت تو ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ برا عمل نہیں ہوتا۔
مصائب آفت ہیں یا آزمائش؟ پرکھنے کا طریقہ:
اب یہ جو دنیا میں آفت اور تکلیف آتی ہے اس کی علامت کیاہے کہ یہ اعمالِ بد کی وجہ سے ہے یا اعمالِ بد کی وجہ سے نہیں ہے؟ اس کی علامت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ لکھی ہے کہ اگر بندے کے ظاہر پر آفت اور تکلیف آجائے اور اس کا دل مطمئن ہو کہ میرے اللہ کی طرف سے ہے، میرا اللہ اسی پر راضی ہے، اللہ اس سے میرے گناہ معاف کر دے گا تو سمجھو کہ یہ بد اعمالی کی و جہ سے نہیں ہے بلکہ یہ بندے کا امتحان ہے، اللہ اس کے درجات بلند فرمانا چاہتے ہیں، اس کو اپنا قرب دینا چاہتے ہیں اور اگر کسی بندے پر تکلیف اور آفت آئے اور بندہ ایسے پریشان ہو جیسے عذاب آ گیا تو سمجھ لو کہ یہ اس کے اعمالِ بد کی وجہ سے ہے، یہ امتحان اور ابتلاءنہیں ہے۔ آپ نیکی کا کام کریں ہو سکتا ہے کہ پرچہ کٹ جائے، آپ دین کا کام کریں ہو سکتا ہے کہ جیل آجائے۔ اگر آپ اس پر رو رہے ہیں، چیخ رہے ہیں جیسے عذاب آ گیا ہے تو سمجھ لیں کہ عملِ بد کی وجہ سے پرچہ کٹاہے۔
حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے ایک علامت بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر بندے پر آفت اور تکلیف آئے اور اس کی وجہ سے رجوع الی اللہ نصیب ہو جائے تو سمجھو یہ امتحان ہے اور اگر آفت اور تکلیف آئے اور رجوع الی اللہ نصیب نہ ہو اور بندہ مزید گناہ کرے تو سمجھو کہ یہ اعمالِ بد کی وجہ سے دنیا میں عذاب آ گیا ہے، اور آج کے دور میں اس کو پرکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اللہ نہ کرے ایک بندہ ہے اس کو دنیا میں تکلیف آتی ہے، ہسپتال میں داخل ہوتاہے لیکن وہاں نرسوں کو تاڑتا ہے، ہسپتال میں داخل ہوا ہے اور موبائل پر فلمیں دیکھ رہا ہے اپنی بیماری کا وقت گزارنے کے لیے تو اب اس کا معنی یہ ہے کہ یہ بندہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہے۔اب میں بھی سمجھ سکتا ہوں اور آپ بھی سمجھ سکتے ہیں مثلاً ہم میں سے کسی کو بخار ہو جائے، میں پڑھاتا ہوں تو میں چھٹی کر لوں، آپ پڑھتے ہیں تو آپ چھٹی کر لیں لیکن جب موقع ملے توفلمیں دیکھیں، ڈرامے دیکھیں،گانے سنیں تو مجھے بھی سمجھ لینا چاہیے کہ مجھ پر خدا کا عذاب ہے اور آپ کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ آپ پر خدا کا عذاب ہے، یہ کوئی امتحان نہیں ہے۔ اگر سننا ہی تھا تو تلاوت لگادیتے، نعت لگا دیتے، کوئی بیان سن لیتے! اللہ ہم سب کو یہ باتیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
﴿فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۲﴾﴾
اس کی تفسیر اور مضا مین سورت النمل میں تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
روزِ قیامت مجرموں کا جھوٹ بولنا:
﴿وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾﴾
جب قیامت کا دن ہو گا تو مجرم لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے ہم تو دنیا میں بہت تھوڑی دیر ٹھہرے تھے یا یہ کہیں گے کہ ہم لوگ قبر میں بہت تھوڑا سا ٹھہر کر آئے ہیں۔
اب بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں اور قیامت کے دن تو کوئی شخص جھوٹ نہیں بول سکے گا تو پھر یہ جھوٹ کیسے بول رہے ہیں؟ بات سمجھیں کہ یہ لوگ جو جھوٹ بولیں گے تو یہ شروع شروع میں ہوگا۔ اللہ کی عدالت قائم ہو گی تو ہر ایک کو آزادی ہو گی کہ جو چاہے بیان کرے کیونکہ اللہ کو تو حقیقتِ حال معلوم ہو گی نا! اب مشرک لوگ یہ کہیں گے:
﴿مَا کُنَّا مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۲۳﴾﴾
الانعام 6: 23
کہ ہم تو شرک کرتے ہی نہیں تھے۔ ابتداءً ہر بندے کو اختیار ہو گا کہ جو چاہے بولے۔ اللہ تعالی کے علم میں سب کچھ ہے، اللہ تعالی کو کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جب یہ لوگ زبان سے جھوٹ بولیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ﴾
یٰسین36: 65
کہ آج کے دن ہم ان کی زبان پر مہر لگا دیں گے، ان کی زبان چپ ہوجائے گی اور ان کے بدن کے دیگر اعضاء ہاتھ، پاؤں وغیرہ بول پڑیں گے۔ تو بندہ شرمندہ ہو گا اور اس کا جھوٹ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ تو یہ جو ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص جھوٹ نہیں بول سکے گا اس کا تعلق ابتدا سے نہیں بلکہ اس کا تعلق انتہا کے ساتھ ہے، ان کے خلاف گواہی ان کے اعضاء دیں گے تو پھر یہ جھوٹ کیسے بولیں گے؟ لہذا ان میں تناقض نہیں ہے۔ تناقض کے لیےآٹھ شرطیں ہوتی ہیں اور یہاں زمانہ بدل گیا ہے اس لیے تناقض نہیں رہے گا۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․