حلال فوڈز

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
حلال فوڈز
مفتی عبدالمنعم فائز صاحب حفظہ اللہ
موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی جامعۃ الرشید کے آنگن میں بہار اتر آئی تھی۔ مگر یہ بہار موسم بہار سے کہیں زیادہ خوبصورت تھی۔ پاکستان کے طول و عرض سے مفتیان کرام تشریف لاچکے تھے۔ شام ڈھلے محسوس ہوتا تھا کہ آسماں کی بے کراں وسعتوں میں پھیلے لاتعداد ستارے ٹوٹ کے۔ جامعۃ الرشید کی جھولی میں آگرے ہیں۔ بنوری ٹاؤن، دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، خیرالمدارس ملتان اور جامعہ امدادیہ فیصل آبادسمیت ملک بھر سے 56 مفتیان کرام تشریف لائے ہوئے تھے۔ استاد محترم مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے کیا خوب کہا: دنیا والے پیر اور منگل کے روز آرام کی نیند سوئے، ہلا گلا کیا اور کیف و مستی میں سر شار رہے، مگر کچھ خدا مست دیوانے دو دن تک صبح شام ’’حلال فوڈ‘‘ کے مسئلے پر سر جوڑے بیٹھے رہے۔ ان خدامست دیوانوں کی آرزو تھی کہ کسی طرح امت مسلمہ کو کھانے ، پینے، پہننے اور لگانے کے لیے حلال چیزیں میسر آئیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں صلہ و ستائش کی خواہش ، نہ نام و نمود کی تمنا۔ امام محمد رحمہ اللہ نے بھی تو فرمایا تھا:
کیف انام وقد نامت عیون المسلمین توکلا علینا ویقولون اذاوقع لنا امررفعناہ الیہ فیکشفہ لنا فاذانمت ففیہ تضیع الدین۔
(کردری:۲/۵۱)
میں کیسے سوسکتا ہوں، جب عام مسلمان ہم پراعتماد اور یہ خیال کرکے سورہے ہیں کہ جب ہمارے سامنے کوئی معاملہ یانیامسئلہ پیش آئے گا تواْن کے (امام محمد)۔ پاس لے جائیں گے، وہ اسے واضح کردیں گے۔ اگر میں سوجائوں تواس سے دین کا نقصان ہوگا۔
مفتیان کرام کی آمد کا مقصد تو ’’حلال فوڈ‘‘ کے موضوع پر گفتگوتھا، مگر ان کی آمد نے نجانے سوچ کے کتنے بند دریچے وا کردیے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کی نگاہوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی مجلس گھوم گئی۔ برس ہا برس۔ گزرے کہ کبھی بنوری ٹائون اور کبھی دارالعلوم کراچی میں مجلس تحقیق مسائل حاضرہ منعقد ہوتی تھی۔ ان میں مفتی۔ محمد شفیع عثمانی، مولانا یوسف بنوری، مفتی محمود جیسے اکابر شریک ہوا کرتے تھے۔ وہ منظر تو ابھی بھی آنکھوں کے سامنے ہے جب مفتی نظام الدین شامزئی اپنے رفقاء کے ہمراہ فقہی مشاورت کے لیے۔ دارالعلوم کراچی جایا کرتے تھے۔ پانچ سال ادھر کا وہ منظر بھی بڑا روح پرور ہوا کرتا تھا جب جامعۃ الرشید میں کراچی بھر کے مفتیان کرام فروکش ہوا کرتے تھے۔
سالوں بعد یہ نظارہ دیکھ کر نجانے کتنے دل آسودہ تھے۔ مفتیان کرام کی باہمی یگانگت اور اپنائیت دل موہ رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بڑے عرصے سے بچھڑے ایک ہی ماں کے بیٹے دوبارہ مل رہے ہوں۔ باہمی احترام، محبت اور رواداری کا ایسا نمونہ شاید ہی کہیں اور دکھائی دیا ہو۔ فقہی مسائل پر بحث و تمحیص سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ اس میں دلیل اور جواب دلیل ہوتی ہے۔ اس میں رد و قدح ہوتی ہے۔ حوالہ جات پیش ہوتے ہیں اور فقہی استنباط میں نقطہ نظر کہیں نہ کہیں دوسرے سے ٹکراؤ کھاتا ہے مگرقلب و نظر میں اب بھی فقہی مناقشہ کا منظر موجود ہے۔ اگر کسی حوالے کی نقل میں کمی رہ گئی، کسی فقہی مسئلے کی علت معلوم کرنے اور قیاس کرنے میں کوتاہی ہوئی تو اکابر مفتیان نے اس انداز میں اصلاح کی کہ سب عش عش کر اٹھے۔ کسی پہ طنزیہ جملے، نہ رکیک فقرے۔۔ روزانہ میڈیا پر گفتگو کے دوران تمام اخلاقی۔ حدیں پامال کرنے۔ کو گفتگو اور تنقید کا فن مدارس کے مفتیان سے سیکھنا چاہیے۔ وہ لمحہ تو شاید زندگی بھر نہ بھول پائے جب ویکسین پلانے اور پولیو کے قطروں پر بحث چھڑی۔موافق و مخالف دلائل، علاقائی مشاہدات اور فقہی جزئیات کا اک حسین سنگم ، رد و قدح بھی ایسی کہ قربان جائیے۔ چٹکلے ، جگ بیتی اور آپ بیتی ، ایک مسئلہ تھا کہ ہزار داستاں۔
اس روز کی کارروائی تو محفوظ کرنے اور باربار سن کر حظ اٹھانے کے لائق ہے۔
علم۔ و تحقیق سے وابستہ افراد جانتے ہیں کہ میڈیا پر چھائے ہوئے نام نہاد "اسلامی محققین"اپنی تحقیق کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور اپنے اسلاف اور اپنے سے زیادہ علم والےعلماء کی تحقیق کو ماننا اپنی توہین سمجھتے ہیں، اس کے بر عکس علماء ربانیین ہیں جو اپنی تحقیق پر خود پسندی کا شکار ہونے کی بجائےدوسروں کی رائے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور یہی فرق ہےاہل حق اور اہل باطل میں۔مثلاً بخاری شریف میں حضرت ابو موسی اشعرے رضی اللہ عنہ کا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمان:
لَا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ فِيكُمْ
(رقم:6736)
کہ جب تک تم میں یہ عالم موجود ہےمجھ سے دوبارہ سوال نہ کرنا۔
کس قدر ایمان افروز بات ہے جس پر اہل علم عمل پیرا ہیں، مگریہاں اس کے برعکس تھا۔ مقالہ پیش کرنے والے اکثر نوجوان تھے۔ اتنے کم عمر کہ شاید بہت سے مفتیان کرام کے بیٹوں سے بھی چھوٹے ، مگر علم کسی۔ ذات، پات اور عمر و سن نہیں دیکھتا۔ ملک بھر کے ان مفتیان کرام نے دل کھول کر نوجوان مفتیان کرام کی محنت کو سراہا۔ فقہی مجلس کے اختتام پر جو بھی اظہار خیال کرتا، نوجوان مفتیان کو ضرور داد دیتا۔(لطیفہ: فتویٰ لفظ "فتیٰ" سے ہے اور "فتیٰ" نوجوان کو کہتے ہیں، یہاں اسم اور مسمیٰ میں خوب مطابقت تھی۔)
مفتیان کرام نے دو روزہ کانفرنس میں حلال فوڈ کے مسئلے پر بحث کی۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں بیرون ملک سے کھانے پینے کی چیزیں آتی ہیں تو ان پر تمام ہدایات انگلش میں لکھی جاتی ہیں ، مگر حلال کا لفظ جلی حروف میں ہمیشہ اردو میں لکھا ہوا نظر آتاہے۔ اس لیے کہ کافر کو بھی پتہ ہے کہ مسلمان حلال ہی کھائے گا۔ لیکن افسوس صد افسوس دنیا کا کوئی شخص اس کمپنی سے نہیں پوچھ سکتا کہ تمہیں حلال کا لفظ لکھنے کا اختیار کس نے دیا؟
تمہارے پاس کس ادارے کا سرٹیفکیٹ ہے کہ تمہاری تمام مصنوعات حلال ہیں؟ دنیا کی ہر ملٹی نیشنل کمپنی کو معلوم ہے کہ مسلمانوں۔ کو حلال کے نام پر ہی دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو وہ کھانے کے لیے حلال کا ہی انتخاب کرے گا۔ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں سالانہ21کھرب ڈالر کی حلال مصنوعات فروخت کی جارہی ہیں۔ صرف 632 ارب ڈالر۔ کی تو کھانے پینے کی حلال چیزیں فروخت کی جارہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ حلال چیزیں بیچنے والے مسلمان نہیں غیر مسلم ہیں۔ 2010ء میں بھارت نے دنیا میں 21ارب ڈالر کی حلال مصنوعات برآمد کیں۔ جنوبی افریقا میں’’ کارن بیف‘‘نامی مذبح خانہ ہے۔ یہ دنیا کے چند بڑے مذبح خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک دن میں 1500 صرف گائے ذبح ہوتی ہیں۔ حیرت کی بات یہ کہ اس مذبح خانے کو ایک یہودی چلا رہا ہے، جس نے مسلمان ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت تسلیم کرتی ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی اتنی بڑی حلال فوڈ کی مارکیٹ میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت دنیا میں حلال اشیا فراہم کرنے والے ملک برازیل، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، تھائی لینڈ اور بھارت ہیں۔ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ کیا ان تمام ممالک کی حلال اشیا واقعی حلال ہوں گی؟ کیا وہ لوگ جانور ذبح کرتے وقت مسلمانوں کی تمام شرائط کا پاس رکھتے ہوں گے؟دیگر ممالک میں حلال فوڈ برآمد کرنے کی بات تو بہت بعد کی ہے، اس وقت پاکستان میں ہم جو حلال چیزیں روزانہ کھاتے ہیں ان میں سے اکثر غیر مسلم ممالک سے منگوائی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہم ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد غیرملکی اشیا کھاتے ہیں۔ ان اشیاء میں صرف چاکلیٹ اور ٹافیاں ہی شامل نہیں، اس وقت ہمارے اسٹورز میں بکنے والی کریم، مکھن، دودھ اور دیگر سینکڑوں مصنوعات بیرون ملک سے درآمد کی جارہی ہیں۔ کوئی پتہ نہیں ان کے بنانے والے عیسائی، یہودی، دہریے یا بت پرست ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان چیزوں میں ڈالے جانے والے اجزا حلال ہیں یا حرام؟
اس سے بھی حیرت کی بات یہ کہ کسی چیز میں ایک فیصد یا اس سے کم ڈالی جانی والی چیز کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ پھر حیف در حیف یہ کہ چیزوں میں استعمال ہونے والے تمام اجزا بیرون ملک سے درآمد کیے جارہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ہماری فیکٹریاں نہیں تیار کرتیں۔ ان اجزا کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے۔ ان حالات میں ، اب توہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے۔
نہ لٹتا اگر دن کو تو راتوں کو۔ یوں بے خبر سوتا
رہا۔ کھٹکا۔ نہ۔ چوری کا دعا۔ دیتا۔ ہوں۔ رہزن۔ کو
ان حالات میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کی خاطر حلال فوڈ پر کانفرنس کا انعقاد نہایت خوش آئند ہے۔ جامعۃ الرشید کی طرف سے حلال و حرام سے متعلق آگہی اور تحقیق کے لیے ’’حلال فاؤنڈیشن‘‘ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بلاشبہ ملک بھر کے مفتیان کرام کا جمع ہوکر حلال فوڈ پر اجتماعی غور و فکر امید کی ایک کرن ہے۔ علمائے کرام نے ثابت کردیا کہ وہ بدلتے حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے مسائل میں بھی امت کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔