تذکرۃ الفقہاء

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تذکرۃ الفقہاء:
……مولانا محمدعاطف معاویہ﷾
امام ابراہیم بن یزید النخعی ﷫ )3(
ترک رفع یدین:
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ شروع نماز کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے تھے اور آپ کا فتویٰ بھی یہی تھا کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کرنا چاہئے چنانچہ حضرت عبدالملک بن ابجر فرماتے ہیں:
" وَرَأَيْت الشَّعْبِيَّ ، وَإِبْرَاهِيمَ ، وَأَبَا إِسْحَاقَ ، لاَ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلاَّ حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلاَةَ"
)مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص237رقم الحدیث 2469(
میں نے امام شعبی ،امام ابواسحاق اورامام ابراہیم نخعی کو دیکھا یہ تینوں صرف نما ز کے شروع میں رفع یدین کرتے تھے۔
آپ کے فتویٰ کو بیان کرتے ہوئے حضرت حصین اور حضرت مغیرہ فرماتے ہیں امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا
"إذَا كَبَّرْتَ فِي فَاتِحَةِ الصَّلاَةِ فَارْفَعْ يَدَيْك ، ثُمَّ لاَ تَرْفَعْهُمَا فِيمَا بَقِيَ"
) مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص236 رقم الحدیث 2460(
نمازی صرف نمازکے شروع میں رفع یدین کرے اس کے بعد پوری نماز میں دوبارہ رفع یدین نہ کرے
جلسہ استراحت:
اگر کوئی عذر شرعی نہ ہو تو حکم یہ ہے کہ بندہ نمازمیں پہلے رکعت کے دوسرے سجدہ سے فارغ ہوکر فوراً کھڑا ہوجائے جلسہ استراحت نہ کرے اس مسئلہ میں دیگر دلائل کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا بھی یہی معمول تھا چنانچہ زبیر بن عدی حضرت نخعی کے متعلق کہتے ہیں " أنه كان يسرع في القيام في الركعة الأولى من آخر سجدة" )مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص395 رقم الحدیث4010(
آپ پہلی رکعت کے دوسری سجدہ سے قیام کی طرف جلدی فرماتے تھے۔
مرد عورت کی نماز کا فرق:
امام ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت سجدے کی حالت میں اپنے پیٹ کو رانوں سے علیحدہ رکھے اوراپنی سرین کو اوپر نہ اٹھائے مرد اپنے اعضاءکوکشادہ رکھیں اور عورت اعضاء سمیٹ کر رکھے۔
)مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص270قم الحدیث 2798(
نوٹ : مرد عورت کی طریقہ ادائیگی نمازمیں فرق پر ملاحظہ فرمائیں میرے شیخ متکلم اسلام کا وال پوسٹر بعنوان ”مرد عورت کی نماز میں فرق کے دلائل “۔
مسئلہ بیس تراویح:
پوری دنیا کے اہل السنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ رمضان المبارک میں بیس رکعت تراویح مسنون ہے حضرت امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اس کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
"ان الناس کانوا یصلون خمس ترویحات فی رمضان"
) کتاب الآثار بروایہ ابی یوسف ص41(
صحابہ اور تابعین رمضان میں پانچ ترویحے {بیس رکعت تراویح }اداکرتے تھے۔
نماز جنازہ میں تلاوت قرآن:
نماز جنازہ چونکہ دعا ہے اس لئے حکم یہ ہے کہ نمازجنازہ میں قرآن کریم کی تلاوت بنیت تلاوت نہ کی جائے اس معاملہ میں حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی قرات کے قائل نہ تھے
" عن حماد عن إبراهيم قال سألته أيقرا على الميت إذا صلى عليه قال لا"
)مصنف عبد الرزاق ج3ص491 رقم الحدیث 6433(
حضرت حماد کہتے ہیں میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کیا نماز جنازہ میں قرات کی جاسکتی ہے ؟آپ نے فرمایا نہیں کرسکتے۔
تکبیرات نماز جنازہ :
حضرت امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہتے تھے اور صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے ولید بن عبد اللہ کہتے ہیں
"رايت ابراهيم النخعي صلى على الجنازة فكبر عليها اربعا رفع يديه في التكبيرة الاولى ولم يرفعهما فيما سوى ذلك"
)کتاب الحجہ لامام محد بن حسن الشیبانی ج1ص262،263(
میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کو دیکھا انہوں نے نمازمیں چار تکبیریں کہیں اور پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا باقی تکبیریں بغیر رفع یدین کے کہیں۔
آپ کی وفات اور امام شعبی کااظہار افسوس :
ربع صدی سے زائد عرصہ تک لوگوں کی علمی پیاس بجھانے والا علم وعمل کا حسین امتزاج امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ 96ھ میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر فانی دنیا سے کوچ کرکے قبر کی زینت بن گئے۔
آپ کی وفات کے بعد امام شعبی رحمہ اللہ نے آپ کی علمی وفقہی صلاحیتوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا "ابراہیم اس حالت میں ہمیں چھوڑ کر گئے کہ کو فہ ،بصرہ ، شام اور حجاز میں اس کی مثال نظر نہیں آتی "
)الطبقات الکبری ٰج6ص284(
حق جل مجدہ امام موصوف کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے علوم کو عام فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین