سورۃ ھود

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
سورۃ ھود
بِسۡمِ اللہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
﴿الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾﴾
سورت کا تعارف:
آپ حضرات کے علم میں ہے کہ ترتیب کے ساتھ بحمد اللہ تعالیٰ ہمارا درس قرآن کریم شروع ہے۔ آج ہمارے درسِ قرآن کا عنوان ہے ”سورۃ ھود کے مضامین“۔ یہ سورۃ مکی ہے۔ اس میں دس رکوع اور ایک سو تیئس آیات ہیں۔ سورۃ ھود میں اللہ رب العزت نے کئی ایک انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا ہے مثلاً حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہم السلام لیکن اس سورۃ کا نام ”سورۃ ھود “ ہے۔ میں ہر سورت کی وجہ تسمیہ عرض کیا کرتا ہوں یعنی سورت کا نام رکھنے کی وجہ کیا ہے! اس سورۃ میں کئی ایک انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ تھا تو کسی ایک نبی کے نام پر اس سورۃ کا نام تجویز کر دیا گیا۔ یہ نام ہم خود تجویز نہیں کر سکتے اور اس میں دخل بھی نہیں دے سکتے کہ انبیاء تو کئی تھے تو فلاں نبی کے بجائے فلاں نبی کے نام پر سورۃ کا نام کیوں رکھا گیا ہے؟ بہر حال چونکہ اس میں حضرت ھود علیہ السلام کا مبارک تذکرہ ہے اس لیے سورۃ کا نام بھی سورۃ ھود ہے۔
قرآن اللہ کا کلام ہے․․․ دلیل:
﴿اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾﴾
فرمایا: کیا یہ لوگ یہی بات کہتے ہیں کہ پیغمبر پاک نے قرآن کو خود ہی گھڑا ہے! آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کر لاؤ اور اللہ کے سوا جس کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو بلا لو!
حضور علیہ السلام کے دو معجزات:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی معجزات ہیں لیکن آپ کا سب سے معروف معجزہ قرآن کریم ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے اپنی معروف تفسیر ”معارف القرآن“ میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزے ایسے ہیں جو قیامت تک رہیں گے۔ ان میں ایک معجزہ قرآن کریم ہے اور ایک معجزہ اور ہے جو ہمارے مشاہدہ میں نہیں ہوتا۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جتنے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں تو جن کا حج قبول ہو جائے تو ان کے کنکر اٹھانے نہیں پڑتے بلکہ خود بخود اٹھ جاتے ہیں۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزات ہیں۔
اب بہت سے احباب کو تعجب ہوتا ہے کہ اب تو پتھر اٹھانے پڑتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ساروں کے حج قبول نہیں ہوتے، پہلے وہاں کنکر اٹھانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا، حجاج حج کرتے کنکر پھینکتے اور جن کا حج قبول ہوتا ان کے کنکر خود بخود اٹھ جاتے لیکن اب کنکر کیوں اٹھانے پڑتے ہیں؟ جب آدمی کا کاروبار حرام کا ہو اور وہ حج کرے تو اللہ تعالیٰ سے اس حج کی قبولیت کی توقع رکھنا کتنی بڑی بیوقوفی کی بات ہے! اس لیے انسان کو اپنے کاروبار پہ، اپنی تجارت پہ، اپنے اسباب پہ غور کرنا چاہیے اور پھر خود اندازہ لگا لینا چاہیے کہ کنکر کیوں نہیں اٹھتے!
دوسرا معجزہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات عملی بھی ہیں اور علمی بھی ہیں، باقی انبیاء علیہم السلام کے معجزات عملی ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا پھینکا تو وہ سانپ بن گیا یہ عملی معجزہ ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو بارہ چشمے نکل پڑے یہ عملی معجزہ ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب کسی نابینا کی آنکھوں پر ہاتھ لگاتے تھے تو اسے دکھائی دینے لگتا تھا یہ عملی معجزہ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام تخت پر بیٹھے جہاں چاہتے وہ تخت اڑا کر لے جاتا یہ عملی معجزہ ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے جب عامل جاتا تو عمل اس کے ساتھ چلاجاتا ہے اور جب عالم جاتا تو علم کے نتائج چھوڑ کر جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جو انبیاء علیہم السلام تھے ان کی نبوت قیامت تک نہیں تھی، ان کی نبوت کا وقت چونکہ محدود تھا اس لیے ان کے معجزے کا وقت بھی محدود تھا۔ ہمارے نبی کی نبوت چونکہ قیامت تک ہے اس لیے خدا نے معجزہ دیا تو ایسا دیا جو قیامت تک ہے۔
علمی اور عملی معجزات:
عمل عامل کے ساتھ چلا جاتا ہے لیکن عالم اپنے علم کے اثرات کو چھوڑ کر جاتا ہے۔ ایک آدمی دنیا میں آیا، وہ نماز پڑھتا ہے، جب وہ فوت ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کا تذکرہ ہی کر سکتے ہیں کہ یہاں فلاں نمازی تھے لیکن اب نہیں ہیں، وہ زندی تھے اور نمازیں پڑھ رہے تھے تو نمازیں چل رہی تھیں، جب وفات پا گئے تو نمازیں بھی ختم ہو گئیں لیکن عالم جب زندہ ہوتا ہے تو تب بھی علوم ہوتے ہیں اور جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو نتائج چھوڑ کر جاتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عالم دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن ما شاء اللہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے شاگرد دے کر گئے ہیں۔ تو باقی انبیاء علیہم السلام کے معجزات عملی ہیں اور ہمارے نبی کا معجزہ علمی ہے۔
اور اللہ رب العزت کی ترتیب اور سنت یہ ہے کہ نبی کو معجزات وہ دیتے ہیں جو اس دور میں کسی چیز کا عروج ہو، جس چیز کا لوہا دنیا مانتی ہو نبی اس کے مقابلے میں اپنا معجزہ پیش کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں جادو کا چرچا تھا تو موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ وہ تھا جس نے جادو کو ختم کیا ہے، اس کے مقابلے سے جادوگر لا عاجز ہو گئے تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں طب کا عروج تھا، بڑے بڑے طبیب ہوتے تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معجزے وہ دیے جس سے طبیب عاجز آ جائیں۔ میں اس پر زیادہ بات نہیں کرتا لیکن اتنی بات کہتا ہوں کہ طبیب یہ تو کر سکتا ہے کہ دوا دے تو بخار ٹھیک ہو جائے، یہ تو کر سکتا ہے کہ دوا دے تو سر درد ٹھیک ہو جائے، یہ تو کر سکتا ہے کہ دوا دے تو بینائی لوٹ آئے لیکن مادر زاد اندھا ہو اور طبیب دوائی دے تو بینائی لوٹ آئے یہ بڑا مشکل ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادر زاد اندھے کا علاج فرماتے تھے یہ معجزہ تھا۔
یہ بھی ہم مان سکتے ہیں کہ مادر زاد اندھا ہو اور ڈاکٹر علاج کرے تو بینائی مل جائے لیکن آدمی دنیا چھوڑ دے اور طبیب اس میں روح ڈال دے یہ نہیں ہوسکتا،اور ادھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قبر پر کھڑے ہو کر فرماتے: ”قُمْ بِاِذْنِ اللہِ“ کہ اللہ کے حکم سے کھڑا ہو جا تو وہ مردہ زندہ ہو کر قبر سے باہر آ جاتا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرندے کی شکل بناتے اور اس پر اللہ کا نام لے کر پھونک مارتے تو وہ پرندہ جاندار بن کر اڑ جاتا، دنیا کی سائنس نے جتنی بھی ترقی کی ہو، بے جان میں جان نہیں ڈال سکتی۔
معجزہ دینے کے متعلق اللہ کی ترتیب:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عربی ادب کا چرچا تھا، ایک عام عورت آتی اور سو سو اشعار پڑھ دیتی تھی، ایک آٹھ سال کا بچہ آتا اور سو سو شعر پڑھ دیتا تھا،ہزار ہزار شعروں کے قصیدے پڑھے جاتے تھے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے کچھ پہلے سات شعراء نے قصیدے لکھے اور کعبے پر لٹکا دیے گئے، انہیں عربی زبان میں کہتے ہیں؛ سبع معلقہ۔ ”سبع“ کا معنی ہے سات اور ”معلقہ“ کا معنی ہے لٹکائے ہوئے، یہ کتاب ہمارے ہاں درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے جس میں وہ قصیدے موجود ہیں۔ شاعر اٹھا اور اس نے قصیدہ لٹکا دیاکہ اس جیسا کلام ہے تو پڑھ کر دکھاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے معجزہ وہ دیا کہ جس کے سامنے عربی کے ادیب بھی عاجز آ گئے، وہ مان گئے کہ یہ کلام بندے کا نہیں بلکہ یہ کلام بندے کے خدا کا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کلام اترا تو سبع معلقہ کو اتار دیا گیا۔ اب اللہ کے پیغمبر دنیا میں تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے معجزہ علمی بھی دیا اور ایسا معجزہ دیا کہ دنیا اس کے مقابلے سے عاجز آ گئی۔
قرآن مجید کے تین چیلنج:
اللہ نے تدریجاً چیلنج کیا ہے۔ پہلے اللہ نے فرمایا:
﴿قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا ﴿۸۸﴾﴾
بنی اسرائیل17: 88
اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں اور اس جیسا قرآن لانا چاہیں تو نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کر لیں تب بھی نہیں لا سکتے!
جب اس چیلنج کو پورا کرنے سے سارے عاجز آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے چیلنج تھوڑا سا کم کر دیا کہ اگریہ نہیں کر سکتے تو چلو پھر دوسرا چیلنج سنو!
﴿اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾﴾
ھود11: 13
اگر تم قرآن کو نہیں مانتے تو اس جیسی دس سورتیں تم لے آؤ، ہم مان لیں گے کہ تم قرآن کا مقابلہ کر سکتے ہو!
اس سے بھی عاجز آ گئے تو اللہ نے اور تخفیف کی ہے اور فرمایا:
﴿وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ﴾
البقرۃ2: 23
کہ اگر تم اس قرآن میں شک کرتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ!
دنیا بھر کے عرب مل کر ایک چھوٹی سی سورت سورۃ الکوثر کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے تو پورے قرآن کا مقابلہ کیا کریں گے! اللہ رب العزت نے چیلنج دیا ہے تو پھر اس چیلنج کے سامنے کوئی نہیں بولا ۔
خیر میں گزارش یہ کر رہا ہوں کہ سورۃ ھود کی ان آیات میں اللہ رب العزت نے قران کریم کی صداقت پر بات کی ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور قوم کے دوطعنے:
﴿وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾﴾
حضرت نوح علیہم السلام نے جب قوم کو دعوت دی تو نوح علیہ السلام کا کلمہ پڑھنے والے بڑے بڑے لوگ نہیں تھے بلکہ غریب لوگ تھے، مسکین تھے، چھوٹے چھوٹے کاروبار والے لوگ تھے۔ تو اس پر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے نوح علیہ السلام کو طعنہ دیا:
پہلا طعنہ․․․ کہ نبی بشر کیوں ہے؟
﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ﴾
ان سرداروں نے پہلی بات یہ کی کہ ہم تجھے نبی کیسے مانیں؟ تُو تو ہم جیسا انسان ہے، بھلا انسان بھی نبی ہو سکتا ہے؟
میں آپ کے ذوق کی تازگی کے لیے چھوٹا سا جملہ کہتا ہوں۔ ہمارے ہاں دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں جو غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے نبی کو دیکھا ہے اور ایک وہ جنہوں نے نہیں دیکھا۔ ذہن دونوں کا ایک ہی ہے۔ جنہوں نے دیکھا تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں بشر مانتے ہیں، نبی نہیں مانتے اور جنہوں نے نہیں دیکھا تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں نبی مانتے ہیں بشر نہیں مانتے۔ اس کا معنی کہ دونوں کا دماغ ایک ہی ہے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا۔
نبی بشر ہو تو امت کا درد سمجھ سکتا ہے!
ہم کہتے ہیں کہ نبی ہوتا ہی بشر ہے، بشر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ تاج نبوت اس کے سر پر رکھتے ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی قوم کا پیشوا ہوتا ہے، نبی قوم کا مقتدا ہوتا ہے اور پیشوا اور مقتدا وہی بن سکتا ہے جو قوم کے درد کو سمجھے اور قوم کا درد وہی سمجھتا ہے جس پر درد آئے، جو درد میں مبتلا نہ ہو وہ قوم کا درد سمجھے گا کیسے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔ نبی قوم سے کہے کہ روزہ رکھو! اب روزہ رکھنے سے بھوک بھی لگتی ہے، پیاس بھی لگتی ہے، اگر نبی ایسا ہو جسے بھوک اور پیاس لگتی ہی نہ ہوتو بتاؤ اس نبی کی بات کون مانے گا؟ خدا نبی اس کو بناتے ہیں جس کو بھوک بھی لگے۔
آپ نے واقعہ سنا ہے اور کوئی کتاب ذہن میں نہ ہو تو فضائل اعمال تو ذہن میں ہے نا! اس میں آپ نے واقعہ پڑھا ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خندق کھود رہے ہیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! بہت بھوک لگی ہے، کیا کریں؟ اور پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو پتھر بندھا ہوا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا اٹھایا تو دو پتھر بندھے ہوئے تھے، فرمایا: بھوک تمہیں لگی ہے تو مجھے بھی لگی ہے۔ اب اگر نبی بشر نہ ہوتے تو نہ بھوک لگنی تھی نہ صحابہ کرام کو مسئلہ سمجھ آنا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی تربیت کے بہت فضائل بیان فرمائے ہیں۔ اب بتاؤ! اگر کسی آدمی کی بیٹی نہ ہو اور اس کو پتا چلے کہ فلاں کی بیٹی کو طلاق ہو گئی ہے تو وہ اس درد کو کیا سمجھے گا؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں کو طلاق ہوئی ہے، ابو لہب کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دی ہے۔ یہ طلاق رخصتی سے پہلے ہی ہوگئی تھی۔ اب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں کہ جب بیٹی کو طلاق ہو تو باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نہ ہوتی اور نبی فرشتہ ہوتے تو کیسے سمجھ آتا؟
نابالغ اولاد فوت ہو تو اس کا اجر:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نا بالغی کی حالت میں فوت ہوئی ہے۔ اب پیغمبر کو پتا ہے کہ نابالغ اولاد فوت ہو تو کیا دکھ ہوتا ہے۔
آپ کے علم میں ہے کہ ابھی ہمارے قریب ہیں مولانا ثناء اللہ صاحب ان کا چھوٹا بچہ فوت ہوا تھا تو میں تعزیت کے لیے گیا۔ وہ مجھے کہنے لگے: مولانا صاحب! مجھے اب بات سمجھ آئی ہے کہ چھوٹا بچہ فوت ہو تو کیا تکلیف ہوتی ہے۔ پہلے کسی کے چھوٹے بچے کی وفات کا سنتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ چھوٹا بچہ ہے، فوت ہو گیا ہے تو کیا ہوا؟ ہمیں دکھ نہیں ہوتا تھا لیکن جب اپنا بیٹا فوت ہوا ہے تو اب مجھے احساس ہوا ہے کہ چھوٹے بچے کے فوت ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ حدیث سمجھنی کتنی آسان ہے کہ نا بالغ بچہ فوت ہو اور والدین صبر کریں تو وہ جنت میں جانے کا سبب بنتا ہے! یہ بات سمجھ تب آتی ہے جب نا بالغ بیٹا فوت ہو، جب فوت نہ ہو تو بات سمجھ میں نہیں آتی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اپنے گھر میں وضو کر رہا تھا، چھوٹے بچے میرے سامنے کھیل رہے تھے، غیر شعوری طور پر میرے ذہن میں بات آئی کہ نابالغ کے فوت ہونے پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تو اگر ہمارا بھی کوئی نابالغ فوت ہوتا․․․ یہ بات ذہن میں آتی تو پھر میں اپنے آپ کو ایسا جھٹکا دیتا کہ یہ تو نے کیا بات سوچی ہے؟ یہ بات غیر شعوری طور پر دل میں آتی تھی جب فضائل پڑھتا تھا لیکن پھر جھٹکا دیتا کہ یہ کون سی بات ہے۔ ہمارا ایک نہیں بلکہ دو بیٹے اور ایک بیٹی؛ تین بچے نابالغی کی حالت میں فوت ہوئے ہیں۔
میں ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ ہمیں دکھ تو ہوا ہے لیکن اب خوش ہیں، کیونکہ یہ ایک نصاب ہے جو اللہ نے ہمیں عطا فرمایا دیا ہے۔ دکھ تو ظاہر ہے کہ ہوتا ہے لیکن جب آخرت کے فضائل سامنے آتے ہیں تو بندے کو تسلی ہوتی ہے۔ میں اب بھی یہ بات بیوی کو سمجھاتا ہوں اور آپ بھی یہ بات سمجھیں! اگر بچہ بالغ ہوا تو آپ کو پتا نہیں کہ وہ کافر ہو گا یا مؤمن ہو گا؟ پھر مؤمن ہو گا تو فاسق ہو گا یا نیک ہو گا؟ یہ ہمیں کچھ پتا نہیں۔ وہ خود جنت میں جائے گا یا باپ کو بھی گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے گا یہ ہمیں بالکل معلوم نہیں اور اگر نابالغ فوت ہوا اور وہ ہوا مسلمان کا بچہ تو اس نے کہاں جانا ہے؟ جنت میں۔ وہ خود بھی جنت میں جائے گا اور والدین کو بھی لے کر جائے گا۔ اگر بالغ بیٹا نیک ہو کر فوت ہوا اور وہ جنت میں چلا بھی گیا تو اس کی جنت الگ ہو گی اور ماں باپ کی جنت الگ ہو گی! لیکن اگر نابالغ فوت ہوا تو ماں باپ کے ساتھ رہے گا۔ تو جو نابالغ بچوں کا لطف آتا ہے نا تو جس کے نہیں گئے وہ لطف نہیں اٹھا سکتا اور جس کے گئے ہیں وہ نابالغ بچوں کا لطف جنت میں ہمیشہ اٹھائے گا۔
اب بتاؤ! یہ اللہ کا کرم ہے یا اللہ کی طرف سے تکلیف ہے؟(اللہ کا کرم ہے۔ سامعین) جس کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تو وہ گلہ کر گزرتے ہیں۔ اللہ کے بندے! آپ کے نابالغ بیٹے کو موت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کو آپ سے بھی پیار ہے اور آپ کے نابالغ بیتے سے بھی پیار ہے۔ اللہ آپ کو جنت میں ہمیشہ اکٹھا رکھنا چاہتے ہیں تو یہ پیار کی نشانی ہے یا نفرت کی نشانی ہے؟ (پیار کی نشانی ہے۔ سامعین)
اللہ نبوت کا تاج ہمیشہ بشر کے سر پر رکھتے ہیں۔ قوم کے سردار حضرت نوح علیہ السلام کو طعنہ دیتے کہ نوح! تو بھی بشر ہے اور ہم بھی بشر ہیں۔ بھلا بشر بھی نبی ہو سکتا ہے؟ وہ بھی کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ اس دور کے مشرک اور اس دور کے مشرک کی سوچ ایک ہی ہے۔ فرق یہ تھا کہ اس دور کا مشرک بشر مانتا تھا لیکن نبی نہیں مانتا تھا اور آج کا مشرک نبی تو مانتا ہے لیکن بشر نہیں مانتا۔ موحد؛ بشر بھی مانتا ہے اور نبی بھی مانتا ہے۔ لہذا ہم دونوں چیزیں مانتے ہیں۔
دوسرا طعنہ․․․ کہ نبی کے متبعین چھوٹے لوگ کیوں؟
اور دوسرا طعنہ انہوں نے یہ دیا:
﴿وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ﴾
ہم تیری بات کیسے مانیں، ہمارے گاؤں کے چھوٹے چھوٹے لوگ ہی کلمہ پڑھتے ہیں، کوئی بڑا کلمہ پڑھتا تو پتا چلتا۔
نوح علیہ السلام کا جواب:
جب قوم کے سردار یہ طعنے دیتے تو نوح علیہ السلام فرماتے کہ دیکھو!
﴿یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾﴾
فرمایا: یہ جو خدا نے مجھے رحمت دی ہے اگر تم نہ لو تو کیا میں تمہارے اوپر زبردستی مسلط کر دوں؟ان کا مقصد یہ تھا کہ بڑے لوگ کلمہ پڑھیں تو ہم بھی پڑھ لیں گے، چھوٹے کلمہ پڑھیں تو ہم تیری بات کیسے مانیں؟
یہ بات یاد رکھ لیں کہ جب بھی کسی نبی نے قوم کو دعوت دی ہے تو عموماً ایسے ہوا کہ ابتدا میں پیغمبر کا کلمہ پڑھنے والے لوگ غریب ہوتے تھے اور بعد میں کلمہ پڑھنے والے امیر ہوتے تھے۔ مالدار بھی آئے ہیں جیسے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلےکلمہ گو ہیں اور مالدار بھی ہیں، دکانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر لٹائی ہیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مالدار بھی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھا ہے، دولت حضور علیہ السلام کے قدموں پر لٹائی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں کلمہ پڑھنے والے حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین غریب اور غلام بھی تھے۔
آپ نے واقعہ پڑھا ہو گا کہ جب ابو سفیان شام کے علاقے میں گئے اور حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہاں اطلاعات پہنچی ہوئی تھیں تو بادشاہ نے بلا کر ابو سفیان سے کئی سوالات کیے۔ اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ جس شخص نے دعوی نبوت کیا اس کے بارے میں بتاؤ کہ اس کے کلمہ گو بڑے بڑے لوگ ہیں یا غریب لوگ ہیں؟ ابو سفیان نے کہا: غریب غریب لوگوں نے کلمہ پڑھا ہے۔ اس پر بادشاہ ہرقل نے کہا: یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ سچا نبی ہے، سچے نبی کو پہلے غریب لوگ قبول کرتے ہیں، بڑے بعد میں قبول کرتے ہیں۔
صحیح البخاری، رقم: 7
یہ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ ہے اور عموماً ایسے ہوتا بھی ہے کہ علماء کو غریب آدمی سعادت سمجھ کر قبول کرتا ہے اور بڑا آدمی دیکھتا ہے کہ اس مولانا صاحب کی دعوت کرو جس کا حلقہ بڑا ہو، جس کا نام بڑا ہو، عام مولوی صاحب کی دعوت بڑا آدمی نہیں کرتا۔ غریب آدمی دین سمجھ کر قبول کرتا ہے اور دولت بھی پیش کرتا ہے لیکن بڑا آدمی عموما ایسا نہیں کرتا! اللہ ہم سب کو بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نبی کو غیب کا علم نہیں:
﴿وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللہُ خَیۡرًا ؕ اَللہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾﴾
حضرت نوح علیہ السلام کو جب قوم کے سردار کہتے تھے کہ تمہارے ساتھ غریب آدمی ہیں، بڑے لوگ نہیں ہیں تو نوح علیہ السلام نے کتنا پیارا جواب دیا، فرمایا:
﴿وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللہِ﴾
میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میرے پاس خزانے ہیں!
﴿وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ﴾
میں کب کہتا ہوں کہ میں غیب کی خبریں جانتا ہوں!
﴿وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ﴾
میں کب کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں!
﴿وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللہُ خَیۡرًا﴾
میں کب کہتا ہوں کہ جو تمہاری نگاہ میں چھوٹے ہیں خدا ان کو کچھ نہیں دے گا!
لیکن جو میرے پاس آیا ہے وہ دولت کے لیے نہیں آیا، تمہارے ذہن میں آیا کہ یہ لوگ غریب ہیں اور میرے پاس پیسوں کے لیے آئے ہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ جو میرے پاس آیا ہے وہ خالص اللہ کے دین کے لیے آیا ہے، ان کے دل کی حالت خدا جانتا ہے، جو جس مقصد کے لیے آیا وہ اس کو ضرور ملے گا، نہ ہم خزانے کی بات کرتے ہیں کہ خزانے والوں سے دوستی لگائیں، نہ فرشتہ ہونے کی بات کرتے ہیں کہ اس بشر کو چھوڑ کر ملائکہ سے تعلق جوڑیں، نہ علم غیب کی بات کرتے ہیں۔ جس بات کا خدا نے حکم دیا ہے اس کا میں بھی پابند ہوں اور میرے ماننے والے بھی پابند ہیں۔نوح علیہ السلام نے زیادہ صفائیاں نہیں دیں بلکہ صاف صاف مسئلہ اور موقف ان کے سامنے بیان فرما دیا۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا انجام:
﴿وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾﴾
حضرت نوح علیہ السلام کتنے بڑے نبی ہیں اور بیٹا کتنا بڑا کافر ہے! باپ کی صف دیکھو اور بیٹے کی صف دیکھو! باپ کا حلقہ دیکھو اور بیٹے کا حلقہ دیکھو! حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے جب شرک کی انتہا کر دی تو نوح علیہ السلام نے بھی بددعا کی کہ اے اللہ! مجھے لگتا ہے اب یہ قوم ماننے والی نہیں ہے، آئندہ ان کی نسل بھی چلے گی تو شرک ہی کرے گی۔ اے اللہ! ان کو ختم فرما دے۔ اللہ رب العزت نے حکم دیا کہ آپ کشتی بنائیں! اب کشتی خشکی میں بن رہی ہے، ادھر قوم ان کا مذاق اڑا رہی ہے کہ کون سا پانی ہے جو آپ کشتی بنا رہے ہیں؟ حضرت نوح علیہ السلام ان کی باتیں سن بھی رہے ہیں اور وحی کے مطابق کشتی بنا بھی رہے ہیں۔ جب کشتی مکمل ہو گئی تو اب آسمان سے پانی برسا، زمین سے پانی نکلا، اب پانی ہی پانی ہے۔ نوح علیہ السلام خود کشتی میں بیٹھے ہیں، ان کے ماننے والے بھی اسی یا بیاسی لوگ تھے وہ بھی ساتھ بیٹھے اور سب جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا بھی ساتھ رکھ لیا۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کے با رے میں بڑے متفکر تھے۔ اپنے بیٹے کو آواز دی کہ بیٹا! اب بھی وقت ہے، اب بھی وقت ہے، بیٹے نے باپ کو جواب دیا:
﴿سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ ؕ﴾
ابا جی! میں آپ کی بات نہیں مانوں گا، میں پہاڑ پر چڑھ کر بچ جاؤں گا۔
نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
﴿لَا عَاصِمَ الۡیَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللہِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾
میرے بیٹے! یہ عذاب ہے، اس سے پہاڑ نہیں بچا سکتے، اب بھی وقت ہے کشتی میں آ کر بیٹھ جا۔ باپ بلا رہا ہے لیکن بیٹا بات نہیں مانتا۔ اب کیا ہوا!
﴿وَ حَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾﴾
ایک موج آئی اور باپ نے بیٹے کو دیکھنا چھوڑ دیا، بیٹا اب غرق ہونے والوں میں سے ہو گیا۔ جب یہ غرق ہوا تو اللہ پاک نے زمین سے فرمایا:
﴿یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ﴾
اے زمین! اپنا پانی پی لے اور اےآسمان! تھم جا! اب یہ پانی خشک ہونا شروع ہوا۔
حضرت نوح علیہ السلام کی درخواست اور اللہ کا جواب:
نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کے بارے میں فکر مند تو تھے۔ اللہ سے دعا مانگی:
﴿رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ﴾
اے میرے رب! میرا بیٹا بھی تو میرے اہل والوں میں سے ہے، آپ کا وعدہ تھا کہ آپ مجھے اور میرے اہل کو نجات دیں گے، اللہ! میرے بیٹے کو نجات دے دیں۔
اللہ پاک نے فرمایا:
﴿یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ﴾
اے نوح! آپ نبی ہیں، آپ کااہل وہ ہے جو کلمہ گو ہے، جو کلمہ گو نہیں ہے وہ آپ کا اہل نہیں ہوسکتا، اس کے اعمال ٹھیک نہیں ہیں، اس لیے ”فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ“ آپ کو اس مسئلے کا پتا نہیں ہے اس لیے ہم نے بتا دیا ہے، اب اس مسئلے کے بارے میں ہم سے بات نہ کریں۔ اس کے بعد بھی کہا تو پھر آپ کا نقصان ہو گا۔ نوح علیہ السلام نے پھر دوبارہ نہیں کہا کہ میرے اس بیٹے کو نجات دے دیں!
نجات کا مدار ایمان و اعمال ہیں:
پتا یہ چلا کہ باپ جتنا بھی بڑا ہو، باپ کی بنیاد پر اولاد کی نجات نہیں ہوتی، نجات ہوتی ہے تو ایمان اور اعمال کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی لخت جگر فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو یہ بات سمجھائی ہے :
يَا فَاطِمَةُ! أَنْقِذِيْ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّيْ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا.
صحیح مسلم، رقم: 204
اے میری بیٹی فاطمہ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرو، کیونکہ میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا! یعنی صرف اسی بات پر ناز نہ کرنا کہ میں حضور کی بیٹی ہوں، اگر نجات ہو گی تو صرف نبوت کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ نجات ہو گی تو ایمان و اعمال کی بنیاد پر ہو گی۔
لیکن ایک بات ذہن نشین فرما لیں کہ اس کا تعلق صرف ایمان سے ہے کہ اگر اولاد کا ایمان نہیں تو پھر والدین کے ایمان کی بنیاد پر اولاد کی نجات نہیں ہو سکتی۔ ہاں اگر اولاد میں ایمان موجود ہو اور اعمال بھی ہوں لیکن اعمال میں کچھ کمی ہو تو والدین کی وجہ سے اولاد جنت میں جائے گی۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے یہ بات سمجھائی ہے:
﴿وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ کُلُّ امۡرِیًٔۢ بِمَا کَسَبَ رَہِیۡنٌ ﴿۲۱﴾﴾
الطور52: 21
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی اولاد ہے تو ہم ان لوگوں کے ایمان کی وجہ سے ان کی اولاد کو ماں باپ کے ساتھ ملا دیں گے۔ یعنی اولاد کا بھی ایمان ہے اور ماں باپ کا بھی ایمان ہے لیکن اولاد کے اعمال میں کمی تھی، ان اعمال کی بنیاد پر وہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی، اب والدین کا جی چاہتا ہے کہ ہماری اولاد ہمارے ساتھ آئے۔ اولاد میں ایمان چونکہ موجود تھا اور والدین ان کے چونکہ جنتی ہیں اور جنتی کی خواہش اللہ پوری کرتے ہیں۔ ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اللہ اپنے کرم سے اس اولاد کو والدین کے ساتھ ملا دیں گے لیکن یہ ضروری ہے ان میں ایمان موجود ہو۔
خیر حضرت نوح علیہ السلام نے دعا مانگی، اللہ پاک نے بتا دیا کہ اے نوح! اگر آپ کی اولاد کے اعمال ٹھیک نہیں ہیں تو پھر وہ آپ کے ساتھ نہیں ہے، نبی کی اولاد عمل کی بنیاد پر پیغمبر کی اہل بنتی ہے۔
آپ درود پاک پڑھتے ہیں ”
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ“،
بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس آل محمد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کلمہ گو امتی شامل ہے، ہر وہ شخص جو نبی کا کلمہ پڑھے وہ روحانی طور پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد شمار ہوتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہماری مائیں ہیں۔ تو جب روحانی اولاد ہیں تو پھر درودمیں شامل کیوں نہیں ہوں گے؟! ایک ہے نبی کی اولادِ جسمانی اور ایک ہے نبی کی اولادِ روحانی۔ تو مقام؛ روحانیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، مقام؛ جسمانیت کی بنیاد پر نہیں ہوا کرتا۔
حضرت ھود علیہ السلام کی تبلیغ:
﴿وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾﴾
ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، تم لوگوں نے تو محض جھوٹی باتیں گھڑ رکھی ہیں۔ اے میری قوم! میں اس دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اس ذات کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم لوگ یہ بات سمجھتے نہیں ہو؟
حضرت ھود علیہ السلام نے فرمایا:
﴿لَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا﴾
میرا مقصد مزدوری تو نہیں ہے! میرا مقصد پیسے کمانا تو نہیں ہے! مجھے میری محنت کا اجر خدا نے دینا ہے۔ میں اکثر احباب سے کہتا ہوں کہ اللہ پاک دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے لیکن پیشہ بنانے کی تو فیق عطا نہ فرمائے ۔
لوط علیہ السلام کی قوم کا گناہ:
﴿قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِیۡ بَنٰتِکَ مِنۡ حَقٍّ ۚ وَ اِنَّکَ لَتَعۡلَمُ مَا نُرِیۡدُ ﴿۷۹﴾﴾
حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بدترین عادت یہ تھی کہ وہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا: ﴿یٰقَوۡمِ ہٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیۡ ہُنَّ اَطۡہَرُ لَکُمۡ﴾ کہ یہ میری بیٹیاں موجود ہیں یعنی جو نبی کی امت ہوتی ہیں وہ ساری نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ فرمایا: میری بیٹیاں ہیں ان سے نکاح کرو، تم لوگ بد ترین حرکت کیوں کرتے ہو؟ تو لوط علیہ السلام کی قوم نے جواب دیا:
﴿قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِیۡ بَنٰتِکَ مِنۡ حَقٍّ﴾
اے لوط! تو جانتا ہے کہ ہمیں عورتوں کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے، ہماری غرض اور ہے۔ پھر حضرت لوط علیہ السلام نے بد دعا کی تو خدا نے عذاب نازل کیا، بستی کو الٹ پلٹ دیا، برباد کر دیا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اس قوم کے ساتھ ہلاک ہوئی۔ ان کے ہاں جب کوئی مہمان آتا تو قوم کے یہ شیطان لوگ اسے بھی معاف نہیں کرتے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے خوبصورت بے ریش لڑکوں کی شکل میں آئے۔ وہ لوگ وہاں پر پہنچ گئے۔
بیوی نے ان لوگوں کو اطلاع کر دی کہ آج لوط علیہ السلام کے ہاں جو تم چاہتے ہو وہ موجود ہیں۔ قوم آئی۔ حضرت لوط علیہ السلام نے کہا: خدا سے ڈرو، ہماری قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرو، یہ ظلم میرے ساتھ نہ کرو، مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو! فرشتوں نے کہا: آپ گھبرائیں مت، ہم انسان نہیں ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس قوم پر حجت پوری ہو جائے، پھر دیکھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟! آپ ان کو چھوڑیں اور صبح سے پہلے ان کی بربادی کا منظر دیکھیں۔ یہ اس آیت کا پس منظر تھا۔
ایک علمی لطیفہ:
یہاں ایک علمی لطیفہ بھی سن لیں۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس پر ایک لطیفہ لکھا ہے کہ ایک طفیلی آدمی تھا۔اس کے محلہ میں شادی ہوئی اور اس کا جی چاہا کہ میں بھی کھانے میں پہنچ جاؤں۔ دعوت اس کو تھی نہیں تو وہ پیچھے سے دیوار پھلانگ کر چھت پر چڑھا اور جہاں زنان خانہ تھا وہاں پہنچ گیا۔ تو شادی والوں نے کہا: اوئے ادھر تو عورتیں ہیں! اس نے کہا
”لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَنَا فِیۡ بَنٰتِکَ مِنۡ حَقٍّ“
تم جانتے ہو کہ مجھے عورتوں سے کوئی غرض نہیں ہے، یعنی میرا مقصد کوئی اور تھا، وہاں دوسری طرف چونکہ مرد ہیں اور وہ کھانا نہیں دیں گے اس لیے میں ادھر گھسا ہوں۔ ہمارے بعض علماء بہت سے علمی لطائف لکھتے ہیں تاکہ لوگوں کوبات سمجھ میں آ جائے۔
اتباعِ محمود اور اتباعِ مذموم:
﴿وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۶﴾ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ مَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِیۡدٍ ﴿۹۷﴾﴾
ہم موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی آیات اور واضح دلائل دے کر بھیجا لیکن انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی بات ماننے کے بجائے فرعون کی بات مانی ، حالانکہ فرعون کی بات درست نہیں تھی۔
یہاں ایک بات سمجھیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ علماء اور فقہاء کی بات مانو تو غیر مقلد کہتے ہیں کہ اتباع کرو لیکن تقلید نہ کرو، وہ کہتے ہیں کہ نبی کی بات مانو تو اتباع ہوتی ہے اور اگر امام کی بات مانو تو تقلید ہوتی ہے، تقلید باطل ہے اور اتباع ٹھیک ہے۔
ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم نے قرآن کو پڑھا نہیں ہے، اگر پڑھا ہے تو پھر سمجھا نہیں ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر ”اتباع“ لفظ آیا ہے۔ ہمیشہ نبی کی بات ماننے کو اتباع نہیں کہتے بلکہ اگر غلط بات کو مانیں تو اس کو بھی اتباع کہا گیا ہے۔یعنی نیک بات مانیں تو وہ بھی اتباع ہے اور بری بات مانیں تو وہ بھی اتباع ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ نیک کی مانیں تو اتباعِ محمود ہے اور برے کی مانیں تو اتباعِ مذموم ہے۔ قرآن کریم کو نیک کی اتباع کرنا پسند اور برے کی اتباع کرنا پسند نہیں ہے۔ اب اسی آیت میں دیکھیں کہ فرعون کی بات ماننے کےلیے لفظ ”اتباع“ استعمال کیا، فرمایا:
﴿فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ﴾
کہ ان لوگوں نے فرعون کے حکم کی اتباع کی۔ اس لیے ہم نے کہا کہ ہمیشہ نبی کی بات ماننے کو اتباع نہیں کہتے، فرعون کی بات مانیں تو اسے بھی اتباع کہتے ہیں۔ ہاں فرق یہ ہے کہ اچھی اتباع ہو تو ٹھیک ہے اور بری اتباع ہو تو غلط ہے۔
سورت ھود نے مجھے بوڑھا کر دیا:
﴿فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ وَ مَنۡ تَابَ مَعَکَ وَ لَا تَطۡغَوۡا ؕ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۲﴾﴾
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں تقریباً بیس بال مبارک سفید ہو گئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے بوڑھا کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
”شَیَّبَتْنِیْ ہُوْدٌ وَ أَخَوَاتُها“
کہ مجھے سورت ھود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! سورت ھود کی کس آیت نے؟ فرمایا: اس آیت نے :
﴿فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ﴾
کہ تم ڈٹ جاؤ! اس آیت کے غم نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔
المفردات: ص127
آپ کہیں گے کہ اس میں تعجب والی کون سی بات ہے؟ ساٹھ سال کے بندے کے بال تو سفید ہو ہی جاتے ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ ساٹھ سال کا امتی نہیں ہے بلکہ یہ نبی ہے، نبی میں کتنی طاقت ہوتی ہے؟ یہ بات سمجھنا! دو روایتیں ہیں۔ اللہ ایک نبی کو جنت کےچالیس مردوں کی طاقت دیتے ہیں اور ایک جنتی مرد کی طاقت دنیا کے سو مردوں کے برابر ہوتی ہے۔ اس حساب سے ایک نبی میں کتنے مردوں کی طاقت ہوئی؟ چار ہزار۔ اب بتاؤ! ہمارے جیسا بندہ ہو اور ساٹھ سال کی عمر میں بال سفید ہوں تو تعجب کی کوئی بات نہیں اور جس میں چار ہزار مردوں کے برابر طاقت ہو تو اس کی ڈاڑھی میں چند بال سفید ہوں تو یہ تعجب کی بات ہے۔
میں نے پورا مسئلہ اس لیے کھولا ہے کیونکہ منکرینِ حدیث اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ روایت ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ساٹھ یا باسٹھ سال ہے اور اس عمر کا بندہ تو بوڑھا ہوتا ہی ہے، اس کے بال تو سفید ہو ہی جاتے ہیں، پھر صحابہ کے تعجب کی کون سی بات ہے؟ اس لیے میں نے وضاحت کر دی ہے۔
مستشرقین کے اعتراض کا جواب:
اچھا! اس سے آپ ایک اور مسئلہ سمجھیں۔ مستشرقین اور کفار نے اعتراض کیا، العیاذ باللہ، العیاذ باللہ، العیاذ باللہ، نقلِ کفر کفر نباشد۔ اللہ ہمیں محفوظ فرمائیں، سچی بات ہے ایسی باتیں نقل کرتے ہوئے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن بات سمجھانےکے لیے میں کہتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر مستشرقین، ملحدین اور کفار نے اعتراضات کیے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ نکاح کیے اور بیک وقت نو نکاح کیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ، العیاذ باللہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں جنسیت کا بڑا غلبہ تھا، عام آدمی کے لیے ایک نکاح مشکل ہوتا ہے اور حضور نے گیارہ کیے۔
ہم نے کہا: کم عقلو! تم بات سمجھتے نہیں ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ تعالیٰ نے چار ہزار مردوں کے برابر طاقت رکھی ہے اور آپ کی بیویاں گیارہ ہیں۔ اب بتاؤ ! پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہشات کو دبایا ہے یا ان پر عمل کیا؟ دبایا ہے۔ تو یہ تعریف کی چیز تھی اور تم نے اعتراض کر دیا۔حیرت کی بات ہے!
بھائی میرے لیے عافیت ہی مانگو!
اور میں کئی بار یہ عرض کر چکا ہوں کہ جب کوئی مجھے استقامت کی دعا دیتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ استقامت کی دعا نہ دو بلکہ عافیت کی دعا دو۔ کئی بار ایسے ہوا ہے کہ میں جلسے سے فارغ ہوا ہوں اور کوئی دھڑلے دار بیان ہوا ہو تو لوگ فوراً کہتے ہیں کہ ماشاء اللہ! اللہ آپ کو استقامت دے۔ میں انہیں کہتا ہوں کہ استقامت کا معنی یہ ہے کہ ابھی جو میں نے بیان کیا ہے اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو، پھر میں تھانے جاؤں، پھر جیل کاٹوں اور پھر آ کر وہی تقریر کروں جو پہلے کی ہے یہ استقامت ہے، اور عافیت یہ ہے تقریر بھی کریں، شاباش بھی ملے، کھانا بھی اچھا ملے، پیسے بھی اچھے ملیں، پھر دوبارہ وہی بیان کریں یہ عافیت ہے۔
اب بتاؤ! استقامت ٹھیک ہے یا عافیت ٹھیک ہے؟ (عافیت ٹھیک ہے۔ سامعین) اس لیے آپ میرے لیے عافیت کی دعا کریں۔ اللہ ہمیں عافیت کے ساتھ دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
بعض حضرات نے استقامت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ کوئی مشکل ہی نہ آئے، بندہ مشکلات کے بغیر ہی سیدھی راہ پر چلتا رہے۔ اس معنی کو دیکھا جائے تو پھر درست ہے۔
امتی کے دل کو مضبوط کرتے ہیں امتی کے واقعات سے:
﴿وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ﴾
ھود11: 120
اے میرے پیغمبر! ہم آپ کے سامنے گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے کچھ واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کا دل پختہ ہو، آپ کا دل مضبوط ہو۔
اس سے ایک مسئلہ ذہن میں رکھیں! نبی کے دل کو مضبوط رکھنے کے لیے انبیاء علیہم السلام کے واقعات بیان ہوتے ہیں۔ ہم امتی ہیں اور امتی کے دل کو مضبوط رکھنے کے لیے امتیوں کے واقعات بیان ہوتے ہیں۔ اس لیے اکابر اور بزرگوں کا تذکرہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ (کرنا چاہیے۔ سامعین)
آج ایک نئی وبا ہمارے ہاں پھیلائی جا رہی ہے کہ جب ہم بزرگوں کے واقعات بیان کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ بزرگوں کے واقعات کیوں بیان کرتے ہو؟ انبیاء علیہم السلام کے واقعات بیان کرو!
ہم کہتے ہیں کہ اگر مخاطب نبی ہے تو نبی کے دل کو پختہ رکھنے کے لیے نبیوں کے واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔ نبی سے فرمایا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو دیکھو! انہیں تخت ملا ہے تب بھی اپنی بات پر قائم رہے ہیں، ایوب علیہ السلام کو دیکھو! کتنے بیمار ہیں تب بھی حق بیان کیا ہے، حضرت داؤد علیہ السلام کو دیکھو! بادشاہ بنے ہیں تب بھی حق بیان کیا ہے،یحییٰ علیہ السلام کو دیکھو! ٹکڑے ہوئے ہیں تب بھی حق بیان کیا ہے تو اے پیغمبر! آپ نے بھی ثابت قدم رہنا ہے جس طرح یہ انبیاء علیہم السلام ثابت قدم رہے۔
میں نے کہا: اگر ہم یہ واقعات بیان کریں تو لوگ فوراً کہہ دیں گے کہ مولانا صاحب! وہ تو نبی تھے اس لیے حق پر قائم رہے اور ہم تو نبی نہیں ہیں، ہم تو امتی ہیں، ہم کیسے حق پر قائم رہیں؟ اس لیے ہم ان لوگوں کے سامنے پھر بزرگوں کے حالات پیش کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ حضرت شیخ زکریا کو دیکھو! حضرت مولانا الیاس دہلوی کو دیکھو! مولانا تھانوی کو دیکھو! مولانا شیخ الہند کو دیکھو! مولانا قاسم نانوتوی کو دیکھو! رحمہم اللہ تعالیٰ۔
نبی کے دل کو مضبوط کرنے کے لیے نبی کو پیش کرتے ہیں، امتی کے دل کو مضبوط کرنے کے لیے امتی کو پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ہم انبیاء علیہم السلام کے واقعات بھی مانتے ہیں، اکابر اور مشائخ کے واقعات بھی مانتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ․