احناف ڈیجیٹل لائبریری

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم
از افادات: متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
تمہیدی گفتگو:
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ ومن تبعہ الی یوم الدین اما بعد!
اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مقدس و محترم جماعت کا نام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پوری امت کے درمیان اللہ رب العزت کا مقرر کیا ہوا واسطہ ہیں۔ اس کے بغیر نہ قرآن کریم ہاتھ میں آسکتا ہے اور نہ ہی قرآن کا بیان جسے ہم سنت و حدیث سے تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے انہیں خیر امت اور امت وسط کے لقب سے نوازا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو یہ ڈیوٹی اور ذمہ داری سونپ دی۔ فرمایا:
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث3461 عن عبد اللہ بن عمرو)
ترجمہ: میری طرف سے (امت کو) پہنچاؤ اگر چہ وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔
بلکہ حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں اس جماعت کو مخاطب ہو کر فرمایا:
فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ.
Read more ...

مسئلہ خلافت و امامت

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ خلافت و امامت
ازافادات:متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اہل السنت کے ہاں امامت کا تصور:
اللہ رب العزت نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جس کی پہلی کڑی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری کڑی جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریعت کے اجتماعی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ عامۃ المسلمین اپنے میں سے کسی اہل اور با صلاحیت فرد کو اپنا رئیس مقرر کریں جو اجتماعی طور پر احکام شریعت کو نافذ کرے۔ اس فرد منتخب کو ”امیر المومنین“ کہا جاتا ہے، یہی ”امام“ بھی کہلاتا ہے اور اس کے اس منصب اقتدار کو ”امامت کبریٰ“ اور ”خلافت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امیر المومنین، خلیفہ وقت اور امامت کبریٰ پر فائز یہ شخص شریعت خداوندی کو عوام پر نافذ کرتا ہے، سب کے سامنے ظاہر اور صاحب اقتدار ہوتا ہے۔ اہل السنت والجماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت کا منصب اسی تصور کے ساتھ مانتے ہیں جو ”خلافت“ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اہل تشیع کے ہاں امامت کا مفہوم:
Read more ...

عقیدہ ثواب وعذاب قبر

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سماع صلوٰۃ و سلام
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
عقیدہ اہل السنت و الجماعت:
اہل السنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اوردیگر انبیاء کرام علیہم السلام وفات ظاہری کے بعد اپنی قبروں میں بتعلقِ روح زندہ ہیں، ان کے اجسادِ مقدسہ بعینہ محفوظ ہیں،صرف یہ ہے کہ احکام شرعیہ کے وہ مکلّف نہیں ہیں لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور روضہ اقدس پر جو درود پڑھاجائے اسے بلاواسطہ سنتے ہیں اور اگر دور سے پڑھا جائے تو فرشتے ان کی خدمت میں پہنچا دیتے ہیں۔
اہل بدعت کا نظریہ:
منکرین سماع النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا موقف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ نہیں بلکہ مردہ ہیں [معاذاللہ]، صلوۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے،یہ عقیدہ شرکیہ عقیدہ ہے،اس کے دلائل من گھڑت ہیں، یہ عقیدہ شیعہ کا ہے، اس عقیدہ کے قائلین شرک کے کھیت کے دہقان ہیں وغیرہ وغیرہ۔ قارئین کی خدمت میں ان کی بعض عبارات ملاحظہ ہوں۔
1: فرقہ مماتیت اپنے بعض عقائد منظر عام پر لائے اور جماعتی لیٹر پیڈ پر یہ عقائد لکھ کر شائع کیے۔ سید ضیاء اللہ بخاری صاحب نے ان عقائد کی تصدیق بھی کی۔ ان عقائد میں یہ درج ہے کہ:
عقیدہ(2)آپ صلی اللہ علیہ وسلم عندالقبر صلوۃ وسلام کا سماع نہیں فرماتے جو سماع کا قائل ہے وہ بےایمان کافر اور مشرک ہے(عند القبر صلوۃ وسلام کے سماع کی جتنی بھی احادیث ہیں وہ سب کی سب جعلی اور موضوع ہیں)
تمام عقائد قرآن وسنت کے مطابق ہیں۔ [دستخط] ضیاء اللہ
(نوٹ:اس کی ایک کاپی ہمارے پاس محفوظ ہے:از ناقل)
Read more ...

القواعد فی العقائد

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
القواعد فی العقائد
 
از افادات: متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ؁
﴿وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ  اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
زمانے کی قسم بے شک وہی انسان کامیاب ہے جس کا عقیدہ درست ہو،عمل سنت کے مطابق ہو،صحیح عقیدہ اور سنت عمل کی تبلیغ واشاعت بھی کرتاہو اور اگر اس تبلیغ واشاعت پر مصائب وپریشانیاں آئیں تو ان پر صبر بھی کرتا ہو۔
شریعت کے اجزاء:
شریعت کے دو جزو ہیں:
اعتقادی اور عملی:
Read more ...

مرد و عورت کی نماز میں فرق

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرد و عورت کی نماز میں فرق
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
دعویٰ اہل السنۃ والجماعۃ:
مرد و عورت کے طریقہ نماز میں فرق؛ احادیث وآثار، اجماع امت اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے ثابت ہے۔
دعویٰ غیرمقلدین:
1: یو نس قریشی صاحب لکھتے ہیں:
شریعت محمدیہ میں مردو عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ جس طرح مرد نماز پڑھتا ہے اسی طرح عورت کو بھی پڑھنا چاہيے۔
( دستور المتقی ص151)
2: حکیم صادق سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں:
عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں... پھر اپنی طرف سے يہ حکم لگانا کہ عورتیں سينے پر ہاتھ باندھیں اور مرد زیر ناف اور عورتیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور ... يہ دین میں مداخلت ہے۔ یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے السلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہنے تک عورتوں اور مردوں کےلئے ايک ہیئت اور شکل کی نماز ہے۔ سب کا قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ استراحت ، قعدہ اور ہر ہر مقام پر پڑھنے کی دعائیں یکساں ہیں۔ رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے ذکور واناث کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں بتایا۔
(صلوٰة الرسول ص190، ص191)
Read more ...

عصمت انبیاء علیہم السلام

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عصمت انبیاء علیہم السلام
از افادات: متکلم ِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
چند تمہیدی باتیں:
خدا کی مخلوق میں خدا کے بعد سب سے بڑا مرتبہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ہے۔یہ ہستیاں دنیا کے لیے خدا کے خلیفہ ہیں اور ”تخلقوا باخلاق اللہ“ کے سب سے بڑے نمونے ہیں،اللہ کی اطاعت و عبودیت کے سب سے اونچے پیکر، مجسم العلوم و معرفت الہیہ کے سب سے زیادہ عالم و عارف، خدا کی ذات و صفات کے ہمہ وقتی مشاہدہ و استحضار سے مستفید و مستنیر..... غرض جتنی خوبیاں اور جتنے اوصافِ کمال خدا کی ذات کے بعد کسی مخلوق میں جمع ہوسکتے ہیں وہ سب انبیاء و مرسلین علیہم السلام میں جمع ہوئے ہیں، اسی لیے کسی ایک نبی کے مرتبہ کمال علمی و عملی کو بڑے سے بڑا ملک مقرب بھی نہیں پہنچ سکتا اور اپنے اپنے دور کے ہر نبی کو ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق کہا جاسکتا ہے، اسی لیے امت ان کے معصوم ہونے کا اعتقاد رکھتی ہے۔
عصمت انبیاء علیہم السلام کے اعتقاد رکھنے کے بعد ان انبیاء و مرسلین میں بھی فرق مراتب ہوا بدلیل:
”تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ
“ اور خدا تعالیٰ کی لا نہایہ بارگاہ کے مراتب قرب بھی بے نہایت ہیں۔
خصائص نبوت:
Read more ...

عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
حضورعلیہ السلام وفات کے بعداپنی قبراطہر میں بتعلق روح زندہ ہیں ،روضہ اقدس پرپڑھاجانے والا صلوة وسلام خودسنتے ہیں ،جواب دیتے ہیں اور دورسے پڑھاجانے والا صلوة وسلام آپ کی خدمت اقدس میں بذریعہ ملائکہ پہنچایاجاتاہے۔
مذہب اہل بدعت :
1: مولوی شہاب الدین خالدی اھل السنت والجماعت اور اشاعت کےعقیدہ حیات انبیاء علیھم السلام میں فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جمعیت اشاعت التوحیدوالسنۃ کا قرآن کریم اور احادیث صریحہ کی رو سے یہ موقف ہے کہ اس مٹی والے جسم سے روح نکلنے کے بعد نہ تو وہ روح اس قبرمیں مدفون جسم میں واپس آتی ہے اور نہ ہی اس مدفون جسم سے روح کا کوئی تعلق قائم ہوتا ہے جسکی بناء پر یہ جسم دیکھتا ہو اور سنتا ہو اور سن کر جواب دیتا ہو۔
(عقائد علمائے اسلام ص91)
Read more ...

حفاظت قرآن

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حفاظت قرآن
از افادات:متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
قرآن کریم آسمانی کتابوں میں سب سے بلند اور ممتاز اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا خود ذمہ لیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو اس میں بھی تحریف اور تبدیلی کا وہی حال ہوتا جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ہوا ، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے انہی لوگوں کو سونپی تھی جن کی طرف اللہ نے وہ کتابیں اتاری تھیں۔
قرآن کریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے اور آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت
Read more ...

مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
وَيُكْرَهُ تَكْرَارُ الْجَمَاعَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ فِي مَسْجِدِ مَحَلَّةٍ لَا فِی مَسْجِدِ طَرِيقٍ اَوْ مَسْجِدٍ لَا اِمَامَ لَہُ وَلَا مُؤَذِّنَ.
(الدر المختار مع رد المحتار: ج 2ص342)
ترجمہ: مسجد محلہ میں اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت مکروہ (تحریمی) ہے، البتہ مسجد طریق یا ایسی مسجد جس کا امام و مؤذن مقرر نہ ہو اس میں دوسری جماعت جائز ہے۔
أَيْ تَحْرِيمًا لِقَوْلِ الْكَافِي لَا يَجُوزُ وَالْمَجْمَعُ لَا يُبَاحُ وَشَرْحُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ إنَّهُ بِدْعَةٌ كَمَا فِي رِسَالَةِ السِّنْدِيِّ.
(رد المحتار: ج2 ص342)
Read more ...

عباراتِ اکابر

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عباراتِ اکابر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم امابعد!
تمہیدی معروضات:
حضرات اکابرین رحمہم اللہ کی عبارات پر مخالفین کی طرف سے کئے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات شروع کرنے سے پہلے چند باتیں عرض خدمت ہیں۔
[۱]: امن وسکون کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اصول اپنایا جائے کہ عبارت کا مطلب مصنف خود ہی بیان کرے۔
مگر فاضل بریلوی اور اس کے چاہنے والوں نے اس اصول کو یکسر نظر انداز کر کے عبارت کسی کی اور مطلب اپنی طرف سے بناکر وار کیے بلکہ بعض موقعوں پر تو فاضل بریلوی وغیرہ سے یوں بھی ہوا ہےجسے شہید اسلام مصلح الامۃ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں :
”راقم الحروف غور وفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جناب مولانا احمدرضا خان صاحب کا قلم اور حجاج بن یوسف کی تلوار توام (جڑواں) پیدا ہوئے تھے
Read more ...