جنوری

ملاقات کا ادب

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب معاشرت:
 
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
جو شخص کسی کے گھر میں اجازت ملنے سے پہلے پردہ اٹھا کر اندر جھانکےاور گھر کی پوشیدہ چیز کو دیکھ لے تو بلا شبہ اس نے جرم کا ارتکاب کیا جو اس کے لیے درست نہیں۔لہذا اگر وہ شخص گھر کے اندر دیکھ رہا ہو اور کوئی شخص اس کے سامنے آئے اور اس کی آنکھ پھوڑ دے تو میں اس جھانکے والے کو کوئی بدلہ نہ دلواؤں گا، لیکن اگر کوئی شخص کسی دروازے کے پاس سے گزرے جس پر کوئی پردہ بھی نہ ہو اور وہ بندہ اندر دیکھ لے تو اس کا کوئی قصور نہیں بلکہ قصور گھر والوں کا ہے۔
[سنن الترمذی:رقم2631]
تشریح:
Read more ...

علماء اجتماع

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
مفتی شبیراحمد حنفی حفظہ اللہ
مرکز اہل االسنۃ و الجماعۃ سرگودھاکے قیام کا بنیادی مقصد اہل السنۃ و الجماعۃ کے عقائد و نظریات اور مسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی اشاعت کرنا ہے۔ بحمد اللہ اپنے ان مقاصد کی طرف گامزن یہ ادارہ ساتویں سال میں قدم رکھ رہا ہے۔ عقیدے کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے اندرون و بیرون ملک نہایت وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مزید اس کام کو بڑھانے اور علماء کرام کو اس کار خیر میں شریک کرنے کے لیے 9 دسمبر 2012ء بروز اتوار”علماء اجتماع“ کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں ملک کے مختلف اضلاع سے علماء کرام تشریف لائے۔علماء کرام کی کثیر تعداد میں آمد ان کی اصلاح عقائد کے حوالے سے فکرمندی کی غمازی کر رہی تھی۔
علماء اجتماع دس بجے سے شروع ہو کر سہ پہر تین بجے تک جاری رہا۔تلاوت کلام پاک اور نعت رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے شروع ہونے والے اس اجتماع میں جن حضرات نے گفتگو کی ان میں متکلم اسلام سفیر احناف مولانا محمد الیاس گھمن ،
Read more ...

اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
 
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
6 دسمبر2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں ’’اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ‘‘ کے عنوان پر پر اثرگفتگو فرمائی۔ اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔:Īاللّهُ يَجْتَبِيْ إِلَيْهِ مَنْ يَشَآءُ وَيَهْدِيْ إِلَيْهِ مَنْ يُنِيْبُĨ
سورۃ الشوریٰ:13
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَاركْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
میں نےآپ کے سامنے سورۃ الشوری ٰ کی ایک آیت تلاوت کی ہے۔
Read more ...

فتاویٰ عالمگیری

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
مولانا محمد یوسف حفظہ اللہ
فتاویٰ پر اعتراضات کا علمی جائزہ:
منکرین فقہ کی طر ف سے ویسے تو آئے دن فقہ اور ائمہ فقہ کے خلاف کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ مگر چند کتابیں ایسی بھی ہیں جو خصوصاً فقہ حنفی کی مستند اور مایہ ناز کتاب ” فتاویٰ عالمگیری“کے خلاف لکھی گئی ہیں۔ جن میں معترضین حضرات نے یہ ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش کی ہےکہ ” فتاویٰ عالمگیری“کے مسائل قرآن وحدیث کے خلاف ہیں۔ مگر حقائق کیا ہیں؟اس کا فیصلہ وہ شخص بآسانی کر سکتاہے جو تعصب وعناد کی عینک اتار کر فقہ حنفی کا مطالعہ کرے۔اور اس منصف مزاج آدمی کے لیے یہ سمجھنا بھی مشکل نہ ہوگا کہ مسائل فقہ خصوصا ً ” فتاویٰ عالمگیری“ پر اعتراضات اٹھانے والے حضرات یا تو ادھوری عبارت نقل کرتے ہیں، یا وہ مسائل سمجھنے میں کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں ، یا پھر حسب عادت فقہ دشمنی کے زیر اثر تعصب وعناد کے ہاتھوں مجبور ہوکر ورق سیاہ کرتے ہیں۔ذیل میں ہم غیر مقلد عالم مفتی عبیداللہ خان عفیف کی طرف سے فتاویٰ عالمگیری پر کیے جانے والے اعتراضات میں سے بطور نمونہ چند ایک کا علمی جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ قارئین کرام کے سامنے معترض کی شخصیت اور اعتراضات کی حقیقت واضح ہوجائے۔
1:سر کے مسح کا انکار:
Read more ...

مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ اور عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
مولانا محمد زکریا حفظہ اللہ
مفتی صاحب رحمہ اللہ کا مسلک عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں آپ کے فتاوٰی” کفایت المفتی“ کے چند فتاوی سے واضح ہوجاتاہے ،جو ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا نظریہ اس بارے میں کیا ہے اور وہ لوگ جو اس عقیدہ کے انکاری ہو کر حضرت مفتی صاحب کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں کتنی سچائی میں ہیں؟عبارات ملاحظہ ہوں۔
فتویٰ1:
سوال: انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں یا نہیں؟
جواب: انبیاء کرام علیہم صلوٰات اللہ اجمعین اپنی قبور میں زندہ ہیں، مگر ان کی زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے بلکہ برزخی اور تمام دوسرے لوگوں کی زندگی سے ممتاز ہے۔ اسی طرح شہداء کی زندگی بھی برزخی ہے اور انبیاء کی زندگی سے نیچے درجے کی ہے۔دنیا کے اعتبار سے تو وہ اموات میں داخل ہیں
” إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ “
کی صریح دلیل ہے۔
Read more ...
Page 1 of 2