احناف ڈیجیٹل لائبریری

القواعد فی العقائد

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
القواعد فی العقائد
 
از افادات: متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ؁
﴿وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ  اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
زمانے کی قسم بے شک وہی انسان کامیاب ہے جس کا عقیدہ درست ہو،عمل سنت کے مطابق ہو،صحیح عقیدہ اور سنت عمل کی تبلیغ واشاعت بھی کرتاہو اور اگر اس تبلیغ واشاعت پر مصائب وپریشانیاں آئیں تو ان پر صبر بھی کرتا ہو۔
شریعت کے اجزاء:
شریعت کے دو جزو ہیں:
اعتقادی اور عملی:
Read more ...

مرد و عورت کی نماز میں فرق

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مرد و عورت کی نماز میں فرق
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
دعویٰ اہل السنۃ والجماعۃ:
مرد و عورت کے طریقہ نماز میں فرق؛ احادیث وآثار، اجماع امت اور ائمہ اربعہ کے اقوال سے ثابت ہے۔
دعویٰ غیرمقلدین:
1: یو نس قریشی صاحب لکھتے ہیں:
شریعت محمدیہ میں مردو عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں بلکہ جس طرح مرد نماز پڑھتا ہے اسی طرح عورت کو بھی پڑھنا چاہيے۔
( دستور المتقی ص151)
2: حکیم صادق سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں:
عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں... پھر اپنی طرف سے يہ حکم لگانا کہ عورتیں سينے پر ہاتھ باندھیں اور مرد زیر ناف اور عورتیں سجدہ کرتے وقت زمین پر کوئی اور ہیئت اختیار کریں اور مرد کوئی اور ... يہ دین میں مداخلت ہے۔ یاد رکھیں کہ تکبیر تحریمہ سے شروع کر کے السلام علیکم و رحمۃ اﷲ کہنے تک عورتوں اور مردوں کےلئے ايک ہیئت اور شکل کی نماز ہے۔ سب کا قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ استراحت ، قعدہ اور ہر ہر مقام پر پڑھنے کی دعائیں یکساں ہیں۔ رسو ل اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے ذکور واناث کی نماز کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں بتایا۔
(صلوٰة الرسول ص190، ص191)
Read more ...

عصمت انبیاء علیہم السلام

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عصمت انبیاء علیہم السلام
از افادات: متکلم ِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
چند تمہیدی باتیں:
خدا کی مخلوق میں خدا کے بعد سب سے بڑا مرتبہ انبیاء و مرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ہے۔یہ ہستیاں دنیا کے لیے خدا کے خلیفہ ہیں اور ”تخلقوا باخلاق اللہ“ کے سب سے بڑے نمونے ہیں،اللہ کی اطاعت و عبودیت کے سب سے اونچے پیکر، مجسم العلوم و معرفت الہیہ کے سب سے زیادہ عالم و عارف، خدا کی ذات و صفات کے ہمہ وقتی مشاہدہ و استحضار سے مستفید و مستنیر..... غرض جتنی خوبیاں اور جتنے اوصافِ کمال خدا کی ذات کے بعد کسی مخلوق میں جمع ہوسکتے ہیں وہ سب انبیاء و مرسلین علیہم السلام میں جمع ہوئے ہیں، اسی لیے کسی ایک نبی کے مرتبہ کمال علمی و عملی کو بڑے سے بڑا ملک مقرب بھی نہیں پہنچ سکتا اور اپنے اپنے دور کے ہر نبی کو ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق کہا جاسکتا ہے، اسی لیے امت ان کے معصوم ہونے کا اعتقاد رکھتی ہے۔
عصمت انبیاء علیہم السلام کے اعتقاد رکھنے کے بعد ان انبیاء و مرسلین میں بھی فرق مراتب ہوا بدلیل:
”تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ
“ اور خدا تعالیٰ کی لا نہایہ بارگاہ کے مراتب قرب بھی بے نہایت ہیں۔
خصائص نبوت:
Read more ...

عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
حضورعلیہ السلام وفات کے بعداپنی قبراطہر میں بتعلق روح زندہ ہیں ،روضہ اقدس پرپڑھاجانے والا صلوة وسلام خودسنتے ہیں ،جواب دیتے ہیں اور دورسے پڑھاجانے والا صلوة وسلام آپ کی خدمت اقدس میں بذریعہ ملائکہ پہنچایاجاتاہے۔
مذہب اہل بدعت :
1: مولوی شہاب الدین خالدی اھل السنت والجماعت اور اشاعت کےعقیدہ حیات انبیاء علیھم السلام میں فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جمعیت اشاعت التوحیدوالسنۃ کا قرآن کریم اور احادیث صریحہ کی رو سے یہ موقف ہے کہ اس مٹی والے جسم سے روح نکلنے کے بعد نہ تو وہ روح اس قبرمیں مدفون جسم میں واپس آتی ہے اور نہ ہی اس مدفون جسم سے روح کا کوئی تعلق قائم ہوتا ہے جسکی بناء پر یہ جسم دیکھتا ہو اور سنتا ہو اور سن کر جواب دیتا ہو۔
(عقائد علمائے اسلام ص91)
Read more ...

حفاظت قرآن

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حفاظت قرآن
از افادات:متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
قرآن کریم آسمانی کتابوں میں سب سے بلند اور ممتاز اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا خود ذمہ لیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو اس میں بھی تحریف اور تبدیلی کا وہی حال ہوتا جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ہوا ، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے انہی لوگوں کو سونپی تھی جن کی طرف اللہ نے وہ کتابیں اتاری تھیں۔
قرآن کریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے اور آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت
Read more ...

مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسجد میں جماعت ثانیہ کاحکم
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
وَيُكْرَهُ تَكْرَارُ الْجَمَاعَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ فِي مَسْجِدِ مَحَلَّةٍ لَا فِی مَسْجِدِ طَرِيقٍ اَوْ مَسْجِدٍ لَا اِمَامَ لَہُ وَلَا مُؤَذِّنَ.
(الدر المختار مع رد المحتار: ج 2ص342)
ترجمہ: مسجد محلہ میں اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت مکروہ (تحریمی) ہے، البتہ مسجد طریق یا ایسی مسجد جس کا امام و مؤذن مقرر نہ ہو اس میں دوسری جماعت جائز ہے۔
أَيْ تَحْرِيمًا لِقَوْلِ الْكَافِي لَا يَجُوزُ وَالْمَجْمَعُ لَا يُبَاحُ وَشَرْحُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ إنَّهُ بِدْعَةٌ كَمَا فِي رِسَالَةِ السِّنْدِيِّ.
(رد المحتار: ج2 ص342)
Read more ...

عباراتِ اکابر

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عباراتِ اکابر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم امابعد!
تمہیدی معروضات:
حضرات اکابرین رحمہم اللہ کی عبارات پر مخالفین کی طرف سے کئے گئے اعتراضات اور ان کے جوابات شروع کرنے سے پہلے چند باتیں عرض خدمت ہیں۔
[۱]: امن وسکون کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اصول اپنایا جائے کہ عبارت کا مطلب مصنف خود ہی بیان کرے۔
مگر فاضل بریلوی اور اس کے چاہنے والوں نے اس اصول کو یکسر نظر انداز کر کے عبارت کسی کی اور مطلب اپنی طرف سے بناکر وار کیے بلکہ بعض موقعوں پر تو فاضل بریلوی وغیرہ سے یوں بھی ہوا ہےجسے شہید اسلام مصلح الامۃ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں :
”راقم الحروف غور وفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جناب مولانا احمدرضا خان صاحب کا قلم اور حجاج بن یوسف کی تلوار توام (جڑواں) پیدا ہوئے تھے
Read more ...

صفت نور وبشر

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صفت نور وبشر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
چند تمہیدی باتیں :
[۱]: بحث نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے وجود مسعود پر ہوگی نہ کہ آپ کی روح مبارکہ پر اس لیے وہ دلائل پڑھے جائیں جو اس وجود مبارکہ سے متعلق ہوں۔
[۲]:
اس مسٔلہ پر بریلوی حضرات چونکہ بشر کہنے اور ماننے والوں کو کافر کہتے ہیں اس لئے اس پر دلائل قطعیہ درکار ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے:
1: مولوی عبدالرشید رضوی لکھتے ہیں: اب جو نبی کو بشر کہے وہ نہ تو خدا ہے اور نہ ہی نبی۔ لہذا وہ کفار میں ہی داخل ہوا۔
(رشدالایمان ص45)
2: مولوی نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں: قرآن پاک میں جابجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا۔
(خزائن العرفان ص5)
3: مفتی احمد یار خان نعیمی نے بھی مثل عبد الرشید رضوی لکھا ہے دیکھیئے۔
Read more ...

صفت مختار کل خاصۂ خداوندی

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صفت مختار کل خاصۂ خداوندی
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اس روایت پر غور کیجیے کہ حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو منافقوں اور یہودیوں نے باتیں بنائیں۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے سنیے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:
بِئْسَ الْمَيِّتُ أَبُو أُمَامَةَ، لَيَهُودُ وَمُنَافِقِي الْعَرَبِ يَقُولُونَ: لَوْ كَانَ نَبِيًّا لَمْ يَمُتْ صَاحِبُهُ، وَلَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي وَلَا لِصَاحِبِي مِنْ اللَّهِ شَيْئًا.
(سیرت ابن ھشام: ج1 ص445 مکتبہ رحمانیہ لاہور. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ قائم کرنا)
ترجمہ:ابو امامہ کا فوت ہونا یہودیوں کے لیے اور منافقین عرب کے لیے برا ہو، وہ کہتے ہیں کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) نبی ہوتے تو ان کا ساتھی نہ مرتا حالانکہ میں اللہ کی مشیت کے مقابلے میں اپنے لیے اور اپنے ساتھی کے لیے کسی شے کا مالک نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے
Read more ...

صفت عالم الغیب خاصۂ خداوندی

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (اجمالی کلام)
صفت عالم الغیب خاصۂ خداوندی
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین امابعد!
مبادیات علم غیب:
[۱]: سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین رہے کہ فریقِ مخالف اس عقیدہ اہل السنت کو گستاخی اور بے ادبی قرار دیتا ہے یعنی جو آدمی بھی صفتِ عالم الغیب کو خاصہ باری تعالیٰ سمجھے اور غیر خدا کے لئے اس کے اثبات سے روکے تویہ لوگ اسے نبی کا گستاخ اور نبی کے علم کا دشمن سمجھتے ہیں حالانکہ جیسے معبود ہونا خاصہ باری ہے اور غیر خدا سے اس کی نفی ان کی توہین نہیں، رب العالمین ہونا خدا کی صفت خاصہ ہے اورغیرخدا سے اس کا انکار اس کی توہین نہیں۔ اسی طرح صفتِ عالم الغیب کو خاصہ باری تعالیٰ سمجھنا اور غیر سے اس کی نفی کرنا توہین نہیں بلکہ ضروری اور لا زمی عقیدہ ہے۔ چنانچہ حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
والانبیاء علیہم السلام فضل اللہ بعضہم علی بعض فالفاضل لا محالۃ لہ کمال یختص بہ لیس فی المفضول و لیس المفضول بناقص ثم لیعلم انہ یجب ان ینفیٰ عنہم صفات الواجب جل مجدہ من العلم بالغیب و القدرۃ علی خلق العالم الی غیر ذلک و لیس ذلک بنقص.
(تفہیماتِ الہیہ: ج1 ص24 بحوالہ ازالۃ الریب: ص97)
Read more ...